جرمنی کی ورلڈ کپ تیاریوں میں سانپوں کی انٹری، کھلاڑی پریشان
امریکہ میں جاری فٹ بال ورلڈ کپ کے دوران جرمنی کی ٹیم کے لیے ایک عجیب اور ڈراؤنی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جب شمالی کیرولائنا میں ان کے ٹریننگ کے میدان میں ایک سانپ نکل آیا۔
جرمن فٹ بال ٹیم کے کپتان جوشوا نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ساتھی کھلاڑیوں کا سامنا ٹریننگ بیس پر ایک سانپ سے ہوا ہے۔ جوشوا نے بتایا کہ ہم نے ایک دن پہلے ایک سانپ دیکھا اور ہمیں وہاں موجود لوگوں نے بتایا کہ یہ زہریلا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سانپ کے کاٹنے کی صورت میں آپ کو فوراً ہسپتال جانا پڑے گا، میرا نہیں خیال کہ اس سے بندہ مر جاتا ہے لیکن یہ بہرحال بہت خطرناک ہے۔
شمالی کیرولائنا میں سانپوں کی سینتیس اقسام پائی جاتی ہیں جن میں سب سے عام زہریلا سانپ کاپرہیڈ کہلاتا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ جرمن ٹیم کا سامنا اسی سانپ سے ہوا ہے۔ ورلڈ کپ جیسے بڑے مقابلے کی تیاری کے دوران کھلاڑیوں کے لیے یہ ماحول بالکل بھی اچھا نہیں ہے۔
اکتیس سالہ کپتان جوشوا کِمک نے اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں فٹ بال کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ کی تیاری کرنے آئے ہیں اور اب حالت یہ ہے کہ کھلاڑی ہر قدم اٹھانے سے پہلے زمین کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کہیں کوئی سانپ نہ ہو۔

صرف جرمنی ہی نہیں بلکہ دیگر ٹیمیں بھی اس مسئلے سے متاثر ہو رہی ہیں۔ ناروے کی ٹیم، جس میں اسٹار کھلاڑی ایرلنگ ہالینڈ بھی شامل ہیں، کو بھی ان کے ٹریننگ گراؤنڈ کے قریب سانپوں کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔
وہاں کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اس علاقے میں کاپرہیڈ سانپ بہت عام ہیں، جس پر ناروے کے مڈ فیلڈر کرسٹین تھورسٹویڈ نے ایک پریس کانفرنس میں غصے اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سن کر مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگا۔
سوئٹزرلینڈ کی ٹیم کو بھی اسی پریشانی کا سامنا ہے، جن کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ٹریننگ گراؤنڈ کے قریبی جنگلی علاقے کو لال رنگ سے نشان زد کر کے لکھا گیا تھا کہ سانپوں والے علاقے سے ہوشیار رہیں۔ تاہم سوئٹزرلینڈ کے میڈیا افسر سرجیو افوسو نے واضح کیا کہ ہم نے ابھی تک میدان کے اندر کوئی سانپ نہیں دیکھا، لیکن اس کے باوجود مداحوں کے دلوں میں ڈر بیٹھ گیا ہے۔
ایک اور ٹیم آسٹریا نے تو سانپوں کے ڈر سے اپنے کھلاڑیوں اور عملے پر سائیکل چلانے کی پابندی لگا دی ہے۔
امریکہ میں ہونے والے اس ورلڈ کپ میں سانپوں کا نکلنا ایک نیا مسئلہ بن گیا ہے جس کی وجہ سے میزبان ملک امریکہ پر کافی تنقید ہو رہی ہے، جبکہ اس کے ساتھ میچوں کی میزبانی کرنے والے ملک کینیڈا اور میکسیکو اس تنقید سے بچے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس ورلڈ کپ میں ویزا نہ ملنے اور کچھ ملکوں کے شائقین پر پابندیوں کی وجہ سے بھی انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان تمام پریشانیوں کے باوجود ورلڈ کپ میچوں کا سلسلہ جاری ہے۔