دفاعی بجٹ میں 18 فیصد اضافہ، 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
وفاقی حکومت نے نئے مالی سال 27-2026 کے لیے دفاع بجٹ کی مد میں 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے، دفاعی بجٹ کا تخمینہ جاری کردیا گیا ہے، جس کے مطابق مالی سال کے نظر ثانی شدہ 2595 ارب روپے کے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد زیادہ ہے۔
جمعے کو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے لیے 18 کھرب 77 ارب 10 کروڑ روپے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق دفاعی اخراجات کا تخمینہ 3000 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے، جو رواں مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 450 ارب روپے زائد ہے، علاقائی سیکیورٹی صورت حال اور دفاعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ 18 فیصد اضافے سے 3000 ارب روپے رکھا جائے گا جو کہ مجموعی وفاقی بجٹ کا تقریبا 15 فیصد ہے۔
نئے مالی سال کے دفاعی بجٹ میں پاک فوج کے لیے 1284 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں جب کہ پاک فضائیہ کے لیے 573 ارب روپے اور پاک بحریہ کے لیے 293 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
رواں سال دفاعی بجٹ میں پاک فوج کے لیے 1184 ارب روپے رکھے گئے ہیں جب کہ پاک فضائیہ کے لیے 520 ارب روپے اور پاک بحریہ کے لیے 273 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
مالی سال کے دوران دفاعی بجٹ میں انتظامی اخراجات 7 ارب 95 کروڑ رکھے گئے تھے، جو نظر ثانی کے بعد 11 ارب 74 کروڑ ہو چکے ہیں، نئے مالی سال کے دوران دفاعی بجٹ میں انتظامی اخراجات 10 ارب 90 کروڑ رکھے گئے ہیں۔
نئے مالی سال کے دفاعی بجٹ میں ملازمین سے متعلق 967 ارب کے اخراجات تجویز کیے گئے ہیں جب کہ جاری مالی سال کے دفاعی بجٹ میں ملازمین سے متعلق 846 ارب کے اخراجات رکھے گئے تھے جو نظرثانی کے بعد 851 ارب روپے ہیں۔
نئے مالی سال کے دفاعی بجٹ میں آپریشنل اخراجات 743 ارب تجویز کیے گئے ہیں، جاری مالی سال کے دفاعی بجٹ میں آپریشنل اخراجات 704 ارب رکھے گئے تھے، جو نظرثانی کے بعد 721 ارب روپے ہیں۔
وفاقی حکومت نے ترقیاتی اخراجات میں کمی کرتے ہوئے دفاعی اور سیکیورٹی ضروریات کو ترجیح دی ہے، دستاویز کے مطابق دفاعی بجٹ میں عام طور پر شامل اخراجات پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے آپریشنل اخراجات افسران اور جوانوں کی تنخواہیں و الاؤنسز بھی شامل ہیں۔