روس میں پارلیمانی انتخابات: حکمران جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب
روس کے ایوانِ زیریں (اسٹیٹ ڈوما) کے انتخابات کے ابتدائی نتائج سامنے آگئے ہیں جس کے مطابق صدر ولادیمیر پیوٹن کی جماعت ’یونائیٹڈ رشیا‘ نے واضح کامیابی حاصل کی ہے۔ ان انتخابات میں 2022 میں جنگ کے آغاز سے قبل یوکرین کا حصہ رہنے والے علاقوں میں بھی ووٹنگ ہوئی جب کہ اس دوران یوکرین کی جانب سے ماسکو اور دیگر علاقوں پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے بھی ہوتے رہے۔
روسی سرکاری میڈیا ’آر ٹی‘ کے مطابق 18 سے 20 ستمبر تک پولنگ کے بعد 95 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے جس کے مطابق حکمران جماعت ’یونائیٹڈ رشیا‘ واضح برتری کے بعد دو تہائی اکثریت برقرار رکھنے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔
تین روز تک جاری رہنے والے الیکشن کے سامنے آنے والے نتائج کے مطابق ’یونائیٹڈ رشیا‘ نے 57.83 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں، 2021 کے انتخابات میں یہ شرح 49.8 فیصد تھی۔
ابتدائی جائزوں کے مطابق 450 نشستوں پر مشتمل ’اسٹیٹ ڈوما‘ میں یونائیٹڈ رشیا 355 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف دی رشین فیڈریشن دوسرے نمبر پر رہی جس نے تقریباً 14 فیصد ووٹوں کے ساتھ 40 نشستیں جیتی ہیں۔ ’ایل ڈی پی آر‘ 25 نشستوں کے ساتھ تیسرے اور ’نیو پیپل‘ پارٹی 20 نشستوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہی۔
صدر ولادیمیر پیوٹن نے جمعے کو ماسکو میں آن لائن ووٹ کاسٹ کیا تھا اور عوام پر زور دیا تھا کہ وہ اپنا حق رائے دہی استعمال کر کے جنگی حالات میں قومی یکجہتی کا ثبوت دیں۔
انتخابات کے آخری روز یوکرین کی جانب سے ماسکو اور اطراف کے علاقوں پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کیے گئے۔
ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے اس حملے کو ’غیر معمولی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں مختلف سمتوں سے 1600 سے زائد ڈرونز استعمال کیے گئے تھے جس میں 2 شہری ہلاک اور ایک آئل ریفائنری سمیت دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
الیکشن کمیشن کی سربراہ کے مطابق یوکرین کی جانب سے ڈیجیٹل ووٹنگ سسٹم پر بھی سائبر حملے کیے گئے، اس دوران تین ہزار سے زائد کوششوں کو ناکام بنایا گیا۔
ان انتخابات کی خاص بات یہ تھی کہ 2022 میں روس میں شامل ہونے والے چار یوکرینی علاقے، ڈونیٹسک، لوہانسک، خیرسون اور ژاپوروزیا میں بھی پہلی بار ’اسٹیٹ ڈوما‘ کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ان سرحدی اور حساس علاقوں میں چار ملین سے زائد افراد نے پیشگی ووٹ کاسٹ کیے۔
روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق یوکرین کی جانب سے روس میں انتخابات متاثر کرنے کی کوششیں ناکام رہیں۔ بیان کے مطابق الیکشن کے دوران روس کے 10 علاقوں میں الیکشن کمیشن کے زیرِ استعمال 74 عمارتیں مکمل تباہ یا جزوی نقصان کا شکار ہوئیں۔
دوسری جانب یورپی یونین اور بعض مغربی ممالک نے روس کے پارلیمانی انتخابات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ’کنٹرولڈ ماحول‘ ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ ناقدین کی جانب سے جنگ مخالف بیانیہ رکھنے والی اپوزیشن جماعت ’یابلوکو‘ کے الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی اجازت پر بھی تنقید کی جارہی ہے۔
روسی پارلیمان کے ایوانِ بالا کی اسپیکر ویلینٹینا ماتوینکو نے کہا کہ حالیہ انتخابات کے نتائج نے مغربی دباؤ کے مقابلے میں روسی معاشرے کے اتفاق اور اتحاد کو واضح کیا ہے۔
چین نے بھی روس کو انتخابات کے کامیاب انعقاد پر مبارک باد دی ہے۔ بیجنگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’چین روس میں آزادانہ انتخابات کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور صدر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد جاری رکھنے اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے تیار ہے۔‘