سانحہ گُل پلازہ: پراسیکیوشن نے پولیس چالان پھر مسترد کر دیا، تفتیش ناقص قرار

کراچی کے گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پراسیکیوشن نے پولیس کی جانب سے جمع کرایا گیا چالان ایک بار پھر واپس بھیج دیا ہے اور تفتیش کو ناقص، نامکمل اور غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔

پراسیکیوشن ذرائع کے مطابق پولیس نے عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا اور چالان میں متعدد اہم قانونی اور تفتیشی پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چالان کے ساتھ عدالتی کمیشن کی رپورٹ بھی منسلک نہیں کی گئی، جو اس مقدمے کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔

ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران ان بنیادی سوالات کے جواب بھی فراہم نہیں کیے گئے کہ آتشزدگی کے وقت ایمرجنسی گیٹ بند کیوں تھے اور عمارت سے نکلنے کے راستے کس کے حکم پر بند یا بلاک کیے گئے۔

پراسیکیوشن کا مؤقف ہے کہ پولیس ان اہم نکات کی وضاحت کرنے میں ناکام رہی، جس سے تحقیقات پر مزید سوالات اٹھ گئے ہیں۔

پراسیکیوشن نے اس پہلو پر بھی اعتراض اٹھایا ہے کہ عمارت میں ایک دکان کو توڑ کر غیر قانونی طور پر تین دکانیں کیسے قائم کی گئیں، تاہم پولیس نے اس معاملے کی بھی مکمل تحقیقات نہیں کیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پراسیکیوشن نے واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ واقعے کی مکمل ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے افسران کو بھی شاملِ تفتیش کیا جانا چاہیے تھا، تاہم سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے)، کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے)، کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) اور فائر بریگیڈ کے متعلقہ افسران کو شاملِ تفتیش نہیں کیا گیا، جو ایک بڑی خامی تصور کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب ڈی آئی جی ساؤتھ نے معاملے کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں تفتیشی عمل کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

پولیس کی جانب سے جمع کرائے گئے چار صفحات پر مشتمل چالان میں 11 سالہ بچے سمیت 6 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ نامزد افراد میں یونین رہنما تنویر پاستا، عمار اسماعیل، امین، محمد رمضان، دکان کے مالک نعمت اللہ اور 11 سالہ حذیفہ شامل ہیں۔ چالان میں 60 سے زائد گواہان کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 11 سالہ حذیفہ سمیت چار افراد عدالت میں اپنے بیانات ریکارڈ کرا چکے ہیں۔ عدالتی بیان میں حذیفہ نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ماچس کی تیلیوں سے کھیل رہا تھا، تاہم پراسیکیوشن کا مؤقف ہے کہ صرف اس بیان کی بنیاد پر واقعے کی تمام ذمہ داری کا تعین نہیں کیا جا سکتا اور سانحے کے تمام اسباب اور ممکنہ غفلت کے ذمہ داروں کی جامع اور غیر جانبدار تحقیقات ضروری ہیں۔

Related posts