فلیٹ سے میاں، بیوی اور بچیوں کی لاشیں ملنے کا معاملہ، متوفی کے اہل خانہ کراچی روانہ

کراچی کے علاقے احسن آباد کے ایک فلیٹ سے میاں بیوی اور 3 بچیوں کی لاشیں ملنے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، متوفی عمر کے بھائی اور سسر لاہور سے کراچی کے لیے روانہ ہوگئے ہیں اور ان کے پہنچنے کے بعد مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔

گزشتہ روز کراچی کے علاقے احسن آباد کے ایک فلیٹ میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی پراسرار موت کے واقعے کی پولیس کی جانب سے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

پولیس کے مطابق فلیٹ سے متوفی عمر، اس کی اہلیہ اور تین بچیوں کی لاشیں ملی تھیں، جن کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے۔ واقعے میں پانچوں افراد کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں جب کہ پوسٹ مارٹم رپورٹس اور دیگر شواہد کی روشنی میں مزید تفتیش کی جائے گی۔

پولیس کے مطابق متوفی عمر کے اہل خانہ (بھائی اور سسر) لاہور سے کراچی کے لیے روانہ ہوگئے ہیں اور ان کے کراچی پہنچنے کے بعد واقعے سے متعلق مزید اہم حقائق سامنے آسکیں گے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ عمر کے اہل خانہ نے تقریباً 10 سال قبل اس سے لاتعلقی اختیار کرلی تھی جب کہ عمر کے بھائی کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اس کی 3 بچیاں ہیں۔

پولیس کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹس سمیت دیگر شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کو آگے بڑھایا جائے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز کراچی میں سائٹ سپر ہائی وے کے قریبی علاقے احسن آباد میں افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، جہاں لاکھانی فلیٹس نامی عمارت سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

پولیس حکام کے مطابق لاشوں کی شناخت ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ اور تین بیٹیوں کے نام سے ہوئی تھی جب کہ پولیس کا کہنا تھا کہ تمام لاشیں کئی روز پرانی معلوم ہوتی ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق اہلِ علاقہ کی جانب سے فلیٹ سے بدبو کی شکایت پر پولیس اور ریسکیو ٹیمیں اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچی تھیں، جس کے بعد اس واقعے کا انکشاف ہوا اور لاشوں کو تحویل میں لیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عمر اور ان کی اہلیہ کی لاشیں فلیٹ کے ایک کمرے سے جب کہ تینوں بچیوں کی لاشیں دوسرے کمرے سے برآمد ہوئیں تھیں جب کہ ایک بچی کی لاش بیڈ اور 2 بچیوں کی لاشیں میٹرس پر موجود تھیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ پانچوں افراد جس حالت میں پائے گئے، ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ معمول کے مطابق سو رہے ہوں۔ پولیس نے تمام لاشیں تحویل میں لے کر ضروری کارروائی شروع کردی تھی۔

ڈاکٹر عمر کے ایک پڑوسی کا کہنا تھا کہ اپنا کلینک بند ہونے کے بعد سے وہ کافی عرصے سے بے روزگار تھے، حال ہی میں انہیں ایک نجی اسپتال میں ملازمت ملی تھی، جب کہ 9 ستمبر کو ان کے ساتھ ڈکیتی کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔

پولیس کی جانب سے ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ڈاکٹر عمر کا آبائی تعلق ضلع بہاول نگر سے تھا۔ انہیں مبینہ طور پر گردے کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد سے وہ ذہنی دباؤ میں مبتلا تھے اور 13 ستمبر کو انہوں نے نجی اسپتال کی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ پولیس کے مطابق فلیٹ کی مکمل تلاشی کے باوجود ان کا موبائل فون نہیں مل سکا۔

وزیرِ داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ کو اپنی نگرانی میں واقعے کی تفتیش اور پیش رفت سے مستقل آگاہ رکھنے کا حکم دیا تھا۔

ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پڑوسیوں کی جانب سے اطلاع ملنے پر پولیس ٹیم فلیٹ کادروازہ توڑ کراندرداخل ہوئی۔

انہوں نے بتایا تھا کہ تینوں بچیوں کی عمریں 10 سال سے کم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اس کیس کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے، ڈاکٹرعمر کا ایک بھائی پنجاب میں ہے، جو فی الحال لاتعلقی کا اظہار کر رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کرائم سین یونٹ نے موقع سے شواہد جمع کرنا شروع کردیے ہیں، اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی سامنے آسکے گی لہٰذا اس واقعے سے متعلق ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔

Related posts