لاہور: ٹیوشن سینٹر میں 10 سالہ طالبہ کی موت کیسے ہوئی؟ پوسٹمارٹم رپورٹ آگئی

لاہور کے علاقے اچھرہ میں ٹیوشن سینٹر کے واش روم میں پراسرار طور پر ہلاک ہونے والی 10 سالہ طالبہ نعیمہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم سامنے آگئی ہے، جس کے مطابق بچی کی موت گلے میں پھندا لگنے سے دم گھٹنے کے باعث ہوئی جب کہ جسم پر تشدد یا زبردستی کے کوئی واضح نشانات نہیں ملے۔

لاہور کے علاقے اتحاد کالونی اچھرہ میں ٹیوشن سینٹر جانے والی 10 سالہ معصوم طالبہ کی پر اسرار ہلاکت کے معاملے میں تحقیقات میں پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پوسٹ مارٹم کے عمل کے بعد چھٹی جماعت کی مقتول طالبہ نعیمہ کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے، ابتدائی رپورٹ میں موت کی وجوہات بتائی گئیں ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں طالبہ کے گلے پر رسی کے پھندے کا واضح نشان پایا گیا ہے اور موت کی وجہ گلے میں پھندا لگنا قرار دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبہ کے جسم پر تشدد یا زبردستی کے کوئی واضح نشانات نہیں ملے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر موجود واش روم کا دروازہ لاک نہیں تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق طالبہ کی چھوٹی بہن نے سب سے پہلے واش روم کا دروازہ کھولا جب کہ دروازہ نہ کھلنے پر بڑی بہن اندر گئی اور نعیمہ کی لاش دیکھی۔

پولیس کے مطابق طالبہ کی بڑی بہن نے بیان دیا کہ نعیمہ نے 2 سال قبل گھر میں گلے میں دوپٹہ ڈال کر خودکشی کی کوشش کی تھی تاہم بچی کے والد عدنان نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی نے خودکشی کی کوشش نہیں کی تھی بلکہ کھیل کے دوران گلے میں دوپٹہ ڈال کر بچوں کے ساتھ مذاق کیا تھا۔

دوسری جانب لواحقین کا کہنا ہے کہ ٹیوشن سینٹر کے واش روم میں ایک رسی لٹک رہی تھی، جسے پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے۔ پولیس نے ٹیوشن سینٹر سے کچھ فاصلے پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کر لی ہے۔

بچی کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ نعیمہ نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے واقعے کی شفاف تحقیقات اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے فنگر پرنٹس سمیت دیگر شواہد اکٹھے کر کے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔ فرانزک اور کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی واقعے سے متعلق حتمی رائے دی جائے گی۔

تحقیقات کے سلسلے میں ٹیوشن سینٹر کے مالک عبدالروف اور اس کے دو بیٹوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر تین افراد سے تفتیش جاری ہے جب کہ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔

Related posts