ملک بھر میں آج شہدائے کربلا کی یاد میں یوم عاشور منایا جا رہا ہے، سیکیورٹی ہائی الرٹ

ملک بھر میں آج یومِ عاشور مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ حضرت امام حسینؓ اور ان کے جان نثار ساتھیوں کی عظیم قربانی کی یاد میں ملک کے مختلف شہروں میں ماتمی جلوس اور مجالسِ عزا کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق کراچی میں مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوگا، جبکہ ملتان، کوئٹہ، پشاور اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں بھی یومِ عاشور کے سلسلے میں جلوس نکالے جائیں گے۔

لاہور میں مرکزی جلوس نثار حویلی سے برآمد ہو کر اپنے مقررہ روایتی راستوں سے ہوتا ہوا منزل کی جانب رواں دواں ہے۔

جلوسوں میں علم، ذوالجناح اور تعزیے بھی شامل ہوں گے، جبکہ جلوسوں کے راستوں پر عزاداروں کی خدمت کے لیے مختلف تنظیموں اور مخیر حضرات کی جانب سے سبیلوں اور لنگر کا وسیع انتظام کیا گیا ہے۔

دوسری جانب یومِ عاشور کے موقع پر ملک بھر میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔ حساس شہروں میں پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات ہیں، جبکہ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کئی شہروں میں موبائل فون سروس بھی جزوی یا مکمل طور پر معطل کی گئی ہے۔

ادھر صوبائی وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے نواب شاہ میں شبِ عاشور کے جلوس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ بھر میں مجالس اور جلوس ان شاء اللہ پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ یومِ عاشور کے موقع پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔

صوبائی وزیر داخلہ کے مطابق صوبے بھر میں سیکیورٹی کے لیے 53 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ رینجرز کے 16 ہزار اہلکار بھی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کو کوئک رسپانس فورس کے طور پر اسٹینڈ بائی رکھا گیا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں، جلوسوں کے مقررہ راستوں اور سیکیورٹی ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ یومِ عاشور کے تمام اجتماعات پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہو سکیں۔

عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ یہ پابندی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ جلوسوں اور دیگر مذہبی تقریبات میں کسی بھی قسم کی بد امنی یا تصادم کا سامنا نہ ہو۔

یوم عاشورہ کا دن مسلمانوں کے لیے صبر، قربانی، اور اصولوں پر ڈٹے رہنے کا پیغام ہے۔ اس دن حضرت امام حسینؓ نے اپنے اہلِ خانہ اور رفقاء کے ہمراہ کربلا کے میدان میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے باطل کے خلاف حق کی آواز بلند کی تھی اور اس عظیم قربانی کی یاد میں ہر سال یہ دن مذہبی عقیدت سے منایا جاتا ہے۔

Related posts