‘نسلہ ٹاور کیس میں سپریم کورٹ نے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا’، عدالتی فیصلہ واپس
وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے 2018 اور 2019 کے احکامات واپس لیتے ہوئے کیس نمٹا دیا ہے۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا تھا اور زیرِ سماعت مقدمے سے آگے بڑھ کر وسیع نوعیت کے احکامات جاری کیے۔
وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق نے 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا اختیار بنیادی طور پر صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کے پاس ہے، نہ کہ عدلیہ کے پاس۔
فیصلے میں کہا گیا کہ عدالتوں کو صرف اپنے سامنے موجود تنازع تک محدود رہنا چاہیے اور غیرضروری معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔
عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے سامنے لیاری میں ایک غیرقانونی عمارت سے متعلق اپیل زیرِ سماعت تھی، تاہم عدالت نے اس مقدمے کا دائرہ ایک عمارت سے بڑھا کر پہلے پورے لیاری اور بعد ازاں پورے کراچی تک وسیع کر دیا۔
فیصلے کے مطابق اسی سلسلے میں کراچی میں غیرقانونی شادی ہالز، شاپنگ سینٹرز، مارکیٹس اور دیگر تعمیرات کے خلاف بھی مسماری کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے آئینی تقاضے پورے کیے بغیر اپیل کے دوران ازخود نوٹس (سوموٹو) کے اختیارات استعمال کیے۔
فیصلے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ سپریم کورٹ نے کراچی ماسٹر پلان کے خلاف قرار دی جانے والی تمام تعمیرات کو مسمار کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔
وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا مقصد کسی غیرقانونی تعمیر کو قانونی قرار دینا نہیں ہے۔
عدالتی بیان کے مطابق غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے لیے پہلے سے قوانین اور عملدرآمد کا باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے، جس پر عملدرآمد کرنا متعلقہ صوبائی حکومت اور اداروں کی ذمہ داری ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سندھ حکومت اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران قانون پر عملدرآمد کے پابند ہیں اور بلڈنگ قوانین کا نفاذ صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
آئینی عدالت نے 21 دسمبر 2018 اور 22 جنوری 2019 کے سپریم کورٹ کے احکامات اور ان کے تحت ہونے والی کارروائیاں واپس لے لیں۔
یاد رہے کہ سولہ جون 2021 کو پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کراچی رجسٹری میں سماعت کے دوران اس عمارت کی سروس روڈ پر تعمیر کی بنیاد پر تجاوز قرار دینے پر اسے گرانے کے احکامات جاری کیے تھے۔
عدالتِ عظمیٰ نے کیس کی کارروائی کے بعد ڈی جی ایس بی سی اے کو حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پلاٹ کینسل کررہے ہیں آپ بلڈنگ گرادیں۔
28 اکتوبر 2021 کو سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا تھا۔
عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ نسلہ ٹاور گرانے کے لیے کنٹرولڈ ماڈرن ڈیوائسز کا استعمال کیا جائے، ہمسایہ ممالک میں عمارتوں کو گرانے کا طریقہ دیکھا جائے، اس کے علاوہ عدالتی فیصلے میں عمارت کو ایک ہفتے میں مکمل طور پر گرانے کا حکم دیا گیا تھا۔
یکم نومبر 2021 کو عدالتی حکم کے بعد کراچی میں نسلہ ٹاور کو مکمل طور پر مکینوں سے خالی کرالیا گیا تھا۔
عدالت نے کمشنر کراچی کو ایک ہفتے کے اندر نسلہ ٹاور کو گرا کر رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے بلڈر کو ہدایت کی تھی کہ وہ نسلہ ٹاور کے تمام رہائشیوں (خریدداروں) کو ان کی جمع شدہ رقم واپس کرے۔ ان احکامات کے نتیجے میں انتظامیہ نے فروری 2022ء میں نسلہ ٹاور کو مکمل طور پر گرا دیا تھا۔