نیشنل سائبر کرائم ایجنسی میں ملازمت کا موقع، اپلائی کیسے کریں؟
وفاقی حکومت نے ملک بھر کے نوجوانوں کے لیے سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے کا ایک بڑا موقع فراہم کیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد پولیس اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں کے خواہش مند افراد کو خوشخبری دیتے ہوئے درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
حکومت کے اس فیصلے کے تحت ملک بھر سے تعلق رکھنے والے مرد اور خواتین امیدوار اب 14 ستمبر 2026 تک ان ملازمتوں کے لیے اپنی درخواستیں آن لائن جمع کرا سکتے ہیں۔
اس اہم فیصلہ کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ مرد و خواتین آگے بڑھیں اور قومی خدمت کے جذبے کے ساتھ اسلام آباد پولیس اور این سی سی آئی اے میں دستیاب ملازمتوں کے لیے درخواستیں جمع کرائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملازمتوں کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ملک بھر کے نوجوان درخواست دے سکتے ہیں اور انہیں قومی خدمت کے جذبے کے ساتھ اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
حکام کے مطابق اس بھرتی کے عمل کا مقصد جہاں پولیس فورس اور این سی سی آئی اے کی خالی نشستوں کو پر کرنا ہے، وہیں سائبر کرائم جیسے جدید شعبے میں کام کرنے کے خواہشمند نوجوانوں کو اہم پلیٹ فارم بھی فراہم کرنا ہے۔
ان اداروں میں مجموعی طور پر 351 آسامیوں پر بھرتیاں کی جا رہی ہیں جن میں سب انسپکٹر، ٹیکنیکل اسسٹنٹ، اسٹینو ٹائپسٹ، یو ڈی سی، اے ایس آئی، کانسٹیبل اور کانسٹیبل ڈرائیور شامل ہیں۔

خواہش مند امیدوار این پی ایف کی آفیشل ویب سائٹ ’’npftas.pk‘ پر جا کر آسانی سے اپنا شناختی کارڈ نمبر درج کر کے اکاؤنٹ بنا سکتے ہیں اور اپنی تعلیمی و ذاتی معلومات فراہم کرنے کے بعد فیس جمع کرا کے درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔
اس حوالے سے نیشنل پولیس فاؤنڈیشن نے درخواستوں کی تفصیلات، جسمانی ٹیسٹ کے معیار اور دیگر اہم شرائط کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
وہ تمام امیدوار جو ان ملازمتوں میں دلچسپی رکھتے ہیں، ان کے لیے ہر پوسٹ کے لیے دو ہزار روپے غیر واپسی کی بنیاد پر پروسیسنگ اور ٹیسٹ فیس مقرر کی گئی ہے، جسے ون لنک سروسز یا مختلف آن لائن بینکنگ طریقوں سے ادا کیا جا سکتا ہے۔
اگر کوئی امیدوار ایک سے زائد آسامیوں کے لیے اپلائی کرنا چاہتا ہے تو اسے ہر پوسٹ کے لیے الگ درخواست اور فیس جمع کرانی ہو گی۔
بھرتی کے طریقہ کار کے حوالے سے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دستی طور پر یا کورئیر کے ذریعے بھیجی گئی کوئی بھی درخواست قبول نہیں کی جائے گی اور ابتدائی مراحل میں کسی قسم کے اسناد کی کاپی بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔
انتخابی عمل کے دوران سب انسپکٹر، اسسٹنٹ سب انسپکٹر، کانسٹیبل اور ڈرائیور کانسٹیبل کے عہدوں کے لیے سب سے پہلے جسمانی اور دوڑ کا ٹیسٹ لیا جائے گا۔ اس ٹیسٹ کے تحت مرد امیدواروں کو ایک میل کا فاصلہ سات منٹ میں جبکہ خواتین امیدواروں کو دس منٹ میں طے کرنا ہو گا۔
جو امیدوار اس جسمانی مرحلے کو کامیابی سے پورا کریں گے، صرف انہیں ہی کمپیوٹر پر مبنی تحریری ٹیسٹ میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے گی۔
حکام نے جعلی اسناد اور غلط معلومات فراہم کرنے والے امیدواروں کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غلط یا جعلی معلومات فراہم کرنا پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت ایک سنگین جرم ہے جس پر سات سال تک کی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
انتظامیہ کے بقول اس سلسلے میں زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور کسی بھی مرحلے پر دستاویزات جعلی ثابت ہونے پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس کے علاوہ سرکاری ملازمت میں پہلے سے موجود افراد کو انٹرویو کے وقت اپنے محکمے سے اجازت نامہ پیش کرنا ہو گا، جبکہ حتمی طور پر منتخب ہونے والے تمام امیدواروں کو پاکستان کے کسی بھی علاقے میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔