ٹرمپ کا ایران سے معاہدہ امریکا کی شکست اور رسوائی کیوں ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امن معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے اسے امریکا کی ایک عظیم فتح قرار دیا ہے، لیکن وائٹ ہاؤس سے باہر کی دنیا میں اس کا کوئی جشن نہیں منایا جا رہا اور نہ ہی لوگ اس پر زیادہ پرامید دکھائی دے رہے ہیں۔

دنیا بھر کے بڑے اخبارات، سیاست دانوں اور ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ امریکا کی جیت نہیں ہے بلکہ ایک ایسی جنگ سے عزت بچا کر نکلنے کا راستہ ہے جس کا خرچہ اٹھانا اب واشنگٹن کے لیے سیاسی، اقتصادی اور فوجی لحاظ سے ممکن نہیں رہا تھا۔

بہت سے ماہرین تو اسے صاف لفظوں میں امریکا اور صدر ٹرمپ کی بڑی شکست کہہ رہے ہیں۔ یونیورسٹی آف شکاگو کے پروفیسر رابرٹ اے پیپ نے انٹرنیٹ پر اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ایک تباہ کن اسٹریٹجک شکست قرار دیا ہے اور ایک بڑے خطرے کی وارننگ دی ہے۔

امریکی حکومت کے لیے اس معاہدے سے جڑی بدنامی سے بچنا بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ سو دنوں سے زیادہ جاری رہنے والی اس جنگ میں اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، قیمتی فوجی اثاثے تباہ ہوئے، سمندر میں جہازوں کی آمدورفت رک گئی اور امریکی عوام میں حکومت کے خلاف غصہ بڑھتا چلا گیا۔

اب حالت یہ ہے کہ واشنگٹن کو مجبوراً ایران پر لگی پابندیاں ہٹانے، اس کے روکے گئے پیسے چھوڑنے اور ایران کی دوبارہ تعمیرِ نو کے لیے ایک بڑے فنڈ پر بات چیت کرنی پڑ رہی ہے، جسے ایران اپنی بہت بڑی جیت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔

امریکا کی اس کمزوری کا پول اس وقت کھلا جب امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کا ایک ٹی وی انٹرویو وائرل ہوا۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ کو دیے گئے اس انٹرویو میں وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے فوجی دباؤ اور سمندری ناکہ بندی کے ذریعے جنگ کے اس پورے عرصے میں سمندری راستے پر اپنا پورا کنٹرول رکھا تھا۔

لیکن خاتون صحافی مارگریٹ برینن نے انہیں فوراً ٹوکتے ہوئے پوچھا کہ اگر امریکا کا سمندر پر پورا کنٹرول تھا، تو امریکی حکومت مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے کئی ہفتوں سے اتنی بے تابی کے ساتھ کیوں کوششیں کر رہی تھی، اور یہ بات چیت کا اتنا بڑا نقطہ کیوں بن گئی؟

اس سیدھے سوال پر امریکی وزیرِ دفاع گھبرا گئے اور انہوں نے گھبراہٹ میں ایک ہی بات کو بار بار دہرانا شروع کر دیا، جس کا انٹرنیٹ پر خوب مذاق اڑایا جا رہا ہے اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس انٹرویو نے امریکی حکومت کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر آرون ڈیوڈ ملر نے ایک پوڈ کاسٹ انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران نے اس پوری جنگ میں اپنے ساتھیوں اور تیل کی ترسیل کو روکنے کی طاقت کی وجہ سے امریکا پر اپنا دباؤ برقرار رکھا۔

دوسری طرف ڈیموکریٹک پارٹی کے رکنِ اسمبلی سیتھ مولٹن نے اس معاہدے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک بہت ہی برا معاہدہ ہے، اور یہ اصل میں ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران کے سپریم لیڈر کے سامنے گھٹنے ٹیکنے اور ہتھیار ڈالنے کی ایک دستاویز ہے۔

صدر ٹرمپ اگرچہ اب بھی یہی راگ الاپ رہے ہیں کہ ایران صرف امریکی فوجی دباؤ کی وجہ سے بات چیت کی میز پر آیا ہے اور اس معاہدے کی وجہ سے تہران کبھی نیوکلیئر بم نہیں بنا پائے گا، لیکن معاہدے کی اندرونی تفصیلات کچھ اور ہی کہانی سناتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، نیوکلیئر پروگرام کا کوئی پکا حل نکالنے کے بجائے اس معاملے کو ساٹھ دنوں کے لیے آگے ٹال دیا گیا ہے، ایران کے تیل پر سے پابندیاں ہٹائی جا رہی ہیں اور ایران کی دوبارہ تعمیر کے لیے تین سو ارب ڈالر کے پیکیج پر بات ہو رہی ہے۔ ایرانی میڈیا اسے جنگ کے نقصان کا معاوضہ کہہ رہا ہے جبکہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی سرمایہ کاری کا طریقہ ہے جس میں نجی کمپنیوں کو شامل کیا جائے گا۔

ٹرمپ اگرچہ کہہ رہے ہیں کہ ایران کو معاہدے سے پہلے کوئی نقد رقم نہیں دی جائے گی، لیکن ان کے بیانات اور معاہدے کی شرائط میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

یہ جنگ رواں سال 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے مل کر ایران کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کرنے اور اس کی طاقت کو کم کرنے کے لیے شروع کی تھی۔ لیکن یہ پلان الٹا پڑ گیا اور جنگ لمبی کھنچ گئی، جس سے دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں اور امریکی وزارتِ دفاع کے مطابق اس جنگ میں امریکا کا 25 سے 29 ارب ڈالر کا براہِ راست فوجی خرچہ ہو گیا۔

اس کے علاوہ عام تجارتی جہازوں پر حملوں اور سیلرز کی موت کی وجہ سے دنیا بھر میں امریکا پر شدید تنقید کی گئی۔ اب امریکا میں الیکشن قریب ہیں اور تیل کی بڑھتی قیمتوں نے ٹرمپ حکومت کو سیاسی طور پر شدید نقصان پہنچایا ہے۔

یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چند ہفتوں بعد امریکا اپنی ڈھائی سویں سالگرہ منائے گا اور ٹرمپ کبھی نہیں چاہتے تھے کہ ان کی شروع کی گئی ایک ناکام جنگ اس جشن پر اثرانداز ہو، جو انہوں نے مبینہ طور پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے کہنے پر شروع کی تھی۔

نیتن یاہو پچھلے 25 سال سے یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ ایران ایٹمی بم بنانے والا ہے اور ٹرمپ بھی یہی باتیں دہراتے رہے۔ ٹرمپ کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس فضول جنگ نے دنیا میں امریکا کی ساکھ کو خاک میں ملا دیا ہے۔

اب یہ سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا یہ امن معاہدہ برقرار رہ پائے گا؟

آرون ڈیوڈ ملر نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جاری کشیدگی اس نازک امن معاہدے کو کسی بھی وقت ختم کر سکتی ہے۔

خود اسرائیل کے اندر بھی اس معاہدے پر کہرام مچا ہوا ہے اور وہاں کے مشہور صحافی گائیڈن لیوی نے اسے اسرائیل کی بڑی ہار اور نیتن یاہو کی ذاتی شکست قرار دیا ہے۔

ایران کے لیے سابق امریکی نمائندے ایلیٹ ابرامز کا کہنا ہے کہ اس کا اصل نتیجہ تب ہی نکلے گا جب ایران کی موجودہ حکومت کا خاتمہ ہوگا۔

اگرچہ ٹرمپ کے حامی یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک بڑی علاقائی جنگ کو روکنا ہی ان کی کامیابی ہے، لیکن دنیا کی سیاست میں سچ وہی ہوتا ہے جو دکھائی دیتا ہے۔

اس وقت پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ ایک سپر پاور ملک نے گھٹنے ٹیک کر ایران کی تمام شرائط کو تسلیم کر لیا ہے، اور ٹی وی پر بے بس نظر آنے والے امریکی وزیرِ دفاع کی ویڈیو اس ناکام جنگ کی سب سے بڑی نشانی بن چکی ہے جسے فتح کا نام دے کر بیچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Related posts