پاکستان ٹیم میں تبدیلیاں: شاہد آفریدی نے سلیکشن کے فیصلوں پر سوالات اٹھادیے

انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں پر سابق کپتان شاہد آفریدی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سلیکشن کے فیصلوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پیر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں پاکستان ٹیم کے سابق مایہ ناز آل راؤؑنڈر شاہد آفریدی نے قومی کرکٹ ٹیم سے 7 کھلاڑیوں کو باہر کرنے اور کوچ کی تبدیلی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے پیچھے جانے کیا منطق ہے۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ صرف 7 کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کرنا ہی حیران کن نہیں بلکہ ان کے متبادل کے طور پر شامل کیے جانے والے کھلاڑیوں کا انتخاب بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔

سابق کپتان نے سوال اٹھایا کہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے لیے ٹی 20 فارمیٹ کے کھلاڑیوں کو کیوں شامل کیا گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ سوچ اور حکمت عملی سمجھ سے بالاتر ہے۔

انہوں نے کوچ کی تبدیلی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صرف 5 ٹیسٹ میچز کے بعد کوچ کو کیوں ہٹا دیا گیا؟ شاہد آفریدی کے مطابق اتنے تجربہ کار سلیکٹرز پر مشتمل سلیکشن کمیٹی کی جانب سے کیا جانے والا یہ انتہائی حیران کن فیصلہ ہے۔

شاہد آفریدی نے مزید کہا کہ انہیں اس فیصلے کے پیچھے کیا منطق ہے، یہ سمجھ نہیں آرہی جب کہ متبادل کھلاڑیوں کو شامل کرنے کا فیصلہ بھی واضح نہیں۔

واضح رہے کہ انگلینڈ کے خلاف جاری تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ گزشتہ روز لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں شکست کے بعد 7 کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے ریلیز کیا گیا ہے اور نئے کھلاڑیوں کو بھی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے جب کہ ہیڈ کوچ سرفراز احمد کی جگہ وائٹ بال کوچ مائیک ہیسن کو ذمہ داری دی گئی ہے۔

شاہد آفریدی نے ٹیم میں ہونے والی ان تبدیلیوں اور فیصلوں کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سلیکشن کمیٹی میں متعدد تجربہ کار افراد موجود ہونے کے باوجود ایسے فیصلے کا سامنے آنا ان کے لیے انتہائی حیران کن ہے۔

Related posts