پاکستان کی افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقے میں کارروائی، دہشت گردوں کے 3 ٹھکانے تباہ، 28 ہلاک
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے حالیہ بڑے واقعات کے بعد سیکیورٹی فورسز نے کوہاٹ، ہنگو اور ٹل میں انٹیلی جینس بیسڈ گراؤنڈ آپریشنز جب کہ افغان سرحدی علاقے میں فضائی کارروائیاں کی ہیں جس میں مجموعی طور پر بھارتی پراکسی ’فتنہ الخوارج‘ اور اس سے وابستہ 37 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔
وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے 20 ستمبر کو کوہاٹ اور ہنگو میں گراؤنڈ آپریشن کیا۔ اس ٹارگٹڈ کارروائی کے نتیجے میں ’فتنہ الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے 9 خوارج ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
اس کے علاوہ افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحدی علاقے میں بھی دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائیاں کی گئیں۔ ان کارروائیوں میں خودکش بمباروں کے تربیتی مرکز سمیت دہشت گردوں کے 3 اہم ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

وزارتِ اطلاعات کے مطابق افغان سرحدی علاقے میں کی گئی فضائی کارروائی کے نتیجے میں 28 دہشت گرد مارے گئے ہیں جب کہ نشانہ بننے والے مراکز میں موجود اسلحے اور گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔
کوہاٹ میں جمعے کے روز اولڈ پولیس لائنز میں جمعہ کی نماز کے دوران دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں 17 پولیس اہلکاروں اور 6 شہریوں سمیت 23 افراد جاں بحق جب کہ 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں 8 دہشت گرد مارے گئے تھے۔ اس حملے کے تانے بانے بھی افغانستان سے ملے تھے اور ایک خودکش بمبار کی شناخت مطیع اللہ نامی افغان شہری کے طور پر ہوئی تھی۔
پاکستان کا طویل عرصے سے یہ اصولی مؤقف رہا ہے کہ افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے اور پاکستان میں حملوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکے۔
اس واقعے کے بعد پاکستان نے ایک بار پھر افغان طالبان سے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ٹھوس کارروائی کا مطالبہ کیا تھا اور افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے پاکستان کو دی گئی دھمکی کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ پاکستان اپنے شہریوں، سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے عالمی قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
گزشتہ روز ضلع ہنگو میں بھی سیکیورٹی فورسز اور خوارج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں بھارتی حمایت یافتہ 8 دہشت گرد ہلاک جب کہ پاک فوج کے 2 افسران سمیت 6 جوان شہید ہوئے تھے۔ ان تمام 6 شہداء کی نمازِ جنازہ پشاور میں ادا کی گئی جس میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی اور کورکمانڈر پشاور شریک ہوئے۔
وزارت اطلاعات نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام چاہتا ہے تاہم شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے۔ بیان میں پاکستان کو افغان سرزمین سے درپیش سیکیورٹی خطرات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق پاکستان کی جانب سے کئی گئی کارروائیوں کے دوران اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ نشانہ صرف دہشت گردوں کے ٹھکانے بنیں اور کسی قسم کا سویلین نقصان نہ ہو۔
بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی مہم ’غضب لِلحق‘ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی، تاکہ ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور معاونت سے پنپنے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان اکتوبر 2025 میں جھڑپوں کے بعد تمام سرحدی راستے مکمل طور پر بند ہیں۔ اکتوبر 2025 میں دونوں ملکوں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں عارضی سیزفائر برقرار رکھنے اور استنبول میں دوبارہ مذاکرات پر اتفاق کیا تھا۔
دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی سربراہی میں وفد نے افغان طالبان حکام کے ساتھ بیٹھ کر 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی اور دیگر حل طلب معاملات کے لیے استنبول میں دوبارہ مذاکرات پر اتفاق کیا تھا۔
تاہم اگلے ماہ استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں دونوں فریق سرحد پار دہشت گردی روکنے کے طریقہ کار پر اتفاق نہیں کرسکے تھے اور مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے تھے۔