یمنی حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے؛ کیا پاکستان معاہدۂ مکّہ کے تحت کارروائی کرے گا؟
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے ’مکّہ دفاعی معاہدے‘ کی شقوں میں کوئی ابہام نہیں ہے اور کسی بھی ایک رکن ملک پر حملہ تمام ارکان پر حملہ سمجھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے شہروں اور معاشی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد اگر یہ تنازع سعودی سرحدوں کے اندر تک داخل ہوتا ہے تو یہ مشترکہ دفاعی معاہدہ فوراً فعال ہو سکتا ہے۔
خواجہ آصف نے نجی چیوز چینل ’جیو‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ کسی بھی بلا اشتعال جارحیت یا یمن تنازع کی سعودی عرب میں منتقلی کی صورت میں اس معاہدے کی دفاعی شقیں عمل میں آ جائیں گی، اور پاکستان اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کیے گئے تمام عہد پورے کرے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے شہری اور معاشی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم تہتر شہری زخمی ہوئے۔ حوثیوں کا موقف تھا کہ یہ کارروائی سعودی عرب کی جانب سے یمن میں کی جانے والی حالیہ بمباری کا بدلہ ہے۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اس معاہدے کی نوعیت پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ایک دفاعی معاہدہ ہے جو تینوں ممالک کو کسی دوسرے ملک پر خود سے حملہ کرنے کا اختیار نہیں دیتا، لیکن اگر کسی ایک رکن ملک پر جارحیت کی گئی تو تینوں ریاستیں مل کر اس کا جواب دیں گی۔
انہوں نے حوثی باغیوں کو خبردار کیا کہ وہ تنازع کو یمن کی حدود سے باہر نہ پھیلائیں، ورنہ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے معاہدے کے تمام قوانین لاگو ہو جائیں گے۔
وزیرِ دفاع نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ سفارتی کوششوں کے ذریعے اس کشیدگی میں کمی لائی جائے گی کیونکہ یہ اتحاد محض طاقت کے استعمال کے لیے نہیں بلکہ ایک دفاعی رکاوٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہمیں اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مشترکہ عسکری صلاحیتیں خود ایک بڑا دفاعی ردِ عمل ثابت ہوں گی۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی عرب کو یمن کے اندرونی تنازع میں نہیں گھسیٹا جانا چاہیے اور وہ امید کرتے ہیں کہ موجودہ بحران کو بڑھنے سے روکنے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔