ٹرمپ کے ساتھ سائے کی طرح رہنے والی ناتالی ہارپ کون ہیں اور کیا کرتی ہیں؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اکثر ایک خاتون کو انتہائی قریب دیکھا جاتا ہے۔ وہ ٹرمپ کے لیے خبریں اور سوشل میڈیا پوسٹس کی پرنٹ شدہ کاپیاں تیار رکھتی ہیں اور صدر کے روزمرہ کام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں اس خاتون کا نام امریکی سیاست میں خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ وہ 35 سالہ ناتالی ہارپ ہیں، جو ٹرمپ کی قابلِ اعتماد اور قریبی معاونین میں شمار ہوتی ہیں۔
ناتالی ہارپ کا سرکاری عہدہ صدر کی اسپیشل اسسٹنٹ اور ایگزیکٹو اسسٹنٹ کا ہے۔ وہ اکثر ٹرمپ کے ساتھ نظر آتی ہیں اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ صدر کی انتہائی وفادار معاون ہیں۔ ان کی ایک اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ ٹرمپ کے بارے میں شائع ہونے والی مثبت خبروں اور دیگر مواد کی پرنٹ شدہ کاپیاں فوراً صدر تک پہنچائیں۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ اکثر اپنے سوشل میڈیا پیغامات ناتالی ہارپ کو بول کر لکھواتے ہیں، جس کے بعد وہ انہیں آن لائن پوسٹ کرتی ہیں۔ ٹرمپ عام طور پر خبروں اور سوشل میڈیا پوسٹس کو موبائل یا کمپیوٹر اسکرین پر پڑھنے کے بجائے ان کی پرنٹ شدہ کاپیاں دیکھنا پسند کرتے ہیں۔
ناتالی ہارپ 2024 کی صدارتی انتخابی مہم کے دوران ’ہیومن پرنٹر‘ یعنی ’انسانی پرنٹر‘ کے نام سے مشہور ہوئیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے ساتھ ایک چھوٹا پورٹیبل پرنٹر رکھتی تھیں اور ٹرمپ کے لیے مثبت خبریں اور سوشل میڈیا پوسٹس فوری طور پر پرنٹ کر دیتی تھیں۔
اسی عادت کی وجہ سے وہ ٹرمپ کے قریب رہنے والے ان معاونین میں شامل ہوگئیں جو صدر کو ان کی پسند کی خبریں اور معلومات فوری طور پر فراہم کرتے تھے۔
ناتالی ہارپ پر ٹرمپ کے اعتماد کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ ’نیویارک ٹائمز‘ کے صحافی میگی ہیبرمین اور جوناتھن سوان نے اپنی کتاب میں ٹرمپ سے منسوب ایک جملہ نقل کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے عملے سے ہارپ کے بارے میں کہا تھا، ’آپ سب یہاں سے جائیں گے اور پیسہ کمائیں گے۔ وہ مجھے کبھی نہیں چھوڑے گی۔‘
یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ ناتالی ہارپ کو اپنی ٹیم کے ایک انتہائی وفادار رکن کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ناتالی ہارپ کا نام حالیہ دنوں میں اس وقت زیادہ نمایاں ہوا جب جارجیا سے ڈیموکریٹ سینیٹر اور دوبارہ انتخاب لڑنے والے جون اوسوف نے ایک انتخابی جلسے کے دوران صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے ان کا ذکر کیا۔
اوسوف نے کہا کہ صدر کو اپنے سرکاری کام پر توجہ دینے کے بجائے اپنا بال روم بنانے اور ’ناتالی کے ساتھ سفر کرنے‘ میں زیادہ دلچسپی ہے۔ اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی اور ہارپ کا نام امریکی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
سینیٹر کے اس تبصرے کے جواب میں جب اوول آفس میں ایک رپورٹر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا تو انہوں نے سینیٹر اوسوف کے بارے میں سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔
وائٹ ہاؤس نے بھی اوسوف کے بیان کو مسترد کیا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ ناتالی ہارپ صدر ٹرمپ کی ٹیم کی “سب سے زیادہ وفادار اور محنتی معاونین میں سے ایک” ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیفن چیانگ نے بھی اوسوف کی تنقید پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔
ناتالی ہارپ کی صدر ٹرمپ سے قربت کا ایک اور ثبوت اس وقت سامنے آیا جب جولائی میں ترکی سے واپسی کے دوران ٹرمپ کو سیکیورٹی خدشات کے باعث خفیہ پرواز کے ذریعے روانہ کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق ناتالی ہارپ ان چند محدود معاونین میں شامل تھیں جو اس خفیہ سفر میں صدر کے ساتھ موجود تھیں۔ ان کے علاوہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور وائٹ ہاؤس کے معاونین والٹ ناؤٹا اور ڈین اسکاؤینو بھی اس سفر کا حصہ تھے۔
یہ خفیہ انتظام مبینہ طور پر اس وقت کیا گیا جب امریکی انٹیلی جنس کو خدشہ تھا کہ صدر کے طیارے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس آنے سے پہلے بھی ناتالی ہارپ کا تعلق ٹرمپ کے سیاسی حلقے سے رہا ہے۔ وہ 2021 اور 2022 میں ٹرمپ کی حمایت کرنے والے ٹی وی نیٹ ورک ’ون امریکا نیوز نیٹ ورک‘ سے منسلک رہیں اور وہاں ایک پروگرام کی میزبانی بھی کی۔
اس دوران انہوں نے 2020 کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے ٹرمپ کے ان دعوؤں کو بھی دہرایا تھا جن میں وہ اپنی انتخابی کامیابی کا دعویٰ کرتے رہے تھے۔ تاہم امریکی حکام اور عدالتوں نے ان دعوؤں کو تسلیم نہیں کیا تھا۔
ہارپ نے 2020 کے ریپبلکن نیشنل کنونشن سے خطاب کے دوران اپنی بیماری اور علاج کا بھی ذکر کیا تھا۔ وہ ہڈیوں کے کینسر سے صحت یاب ہو چکی ہیں اور انہوں نے ٹرمپ کو اپنے علاج میں مدد ملنے کا کریڈٹ دیا تھا۔
اس موقع پر ہارپ نے کہا تھا، ’جب مارکیٹ میں موجود کیموتھراپی میرے لیے ناکام ہوگئی تو کوئی بھی مجھے اپنے کلینیکل ٹرائلز میں شامل نہیں کرنا چاہتا تھا۔‘
انہوں نے ٹرمپ سے مخاطب ہوتے ہوئے مزید کہا، ’انہوں نے مجھے تجرباتی علاج آزمانے کا حق نہیں دیا، لیکن آپ نے دیا اور آپ کے بغیر میں ان علاجوں کی منظوری کا انتظار کرتے ہوئے مر جاتی۔‘
تاہم ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ میں اس دعوے کے حوالے سے وضاحت کی گئی تھی کہ ہارپ کو جو امیونوتھراپی علاج دیا گیا، وہ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن پہلے ہی کسی دوسرے استعمال کے لیے منظور کر چکی تھی۔ اس لیے رپورٹ کے مطابق اس مخصوص علاج کے لیے ’رائٹ ٹو ٹرائی‘ قانون کی ضرورت نہیں تھی۔
ناتالی ہارپ کا تعلق امریکی ریاست کیلیفورنیا سے ہے۔ انہوں نے 2012 میں پوائنٹ لوما نازرین یونیورسٹی سے بیچلرز کی ڈگری حاصل کی، جبکہ 2015 میں لبرٹی یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد جنوری 2025 میں ہارپ نے وائٹ ہاؤس میں بطور صدارتی مقرر کام شروع کیا۔ ان کا سرکاری عہدہ صدر کی اسپیشل اسسٹنٹ اور ایگزیکٹو اسسٹنٹ کا ہے۔
اگرچہ کچھ عرصہ پہلے تک ناتالی ہارپ عام امریکیوں کے لیے زیادہ معروف نام نہیں تھیں، لیکن ٹرمپ کے ساتھ مسلسل موجودگی، صدر کے لیے پرنٹ شدہ مواد تیار کرنے کی ذمہ داری، خفیہ پرواز میں ان کی موجودگی اور ٹرمپ کی جانب سے ان پر ظاہر کیے گئے اعتماد نے انہیں حالیہ دنوں میں امریکی سیاسی منظرنامے میں نمایاں کردیا ہے۔