پاکستان کا کشمیر سے متعلق امریکی سفیر کے متنازع بیان پر احتجاج، ناظم الامور طلب

بھارت میں تعینات امریکی سفیر کے جموں و کشمیر سے متعلق متنازع بیان پر پاکستان نے امریکا سے شدید احتجاج کیا ہے جب کہ ترجمان دفتر خارجہ نے امریکی ناظم الامور کو طلب کرکے باضابطہ ڈی مارش حوالے کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بدھ کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق پاکستان نے امریکی سفیر برائے بھارت سرجیو گور کے بیان پر پاکستان نے شدید احتجاج کیا ہے۔

امریکی ناظم الامور کو آج دفتر خارجہ طلب کرکے امریکی سفیر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورے کے دوران مسئلہ کشمیر کی حیثیت سے متعلق حقائق کے منافی بیان پر سخت ڈی مارش کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے جموں و کشمیر کو ’’بھارت کا حصہ‘‘ قرار دینے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس بیان کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کردیا اور کہا کہ امریکی ناظم الامور کو واضح کیا گیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور کشمیر کا حتمی فیصلہ متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکی سفیر کا غیر ذمہ دارانہ بیان مسئلہ جموں و کشمیر پر امریکا کے طویل عرصے سے قائم اور دستاویزی مؤقف کی نفی کرتا ہے جب کہ یہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی کے امریکی عزم سے بھی متصادم ہے۔

پاکستان نے واضح کیا کہ کشمیر سے متعلق کسی بھی متنازع بیان کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ دفتر خارجہ نے امریکی حکام کو پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے مستقبل میں جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت سے متعلق ایسے بیانات سے گریز کرنے پر زور دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان نے معرکہ حق کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ جموں و کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کو سراہا،  امریکی حکام کے عوامی بیانات جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کے مطابق ہونے چاہئیں۔

یہ معاملہ امریکی سفیر برائے بھارت سرجیو گور کے 19 اگست 2026 کو جموں و کشمیر کے دورے کے بعد سامنے آیا اور یہ ان کا بطور امریکی سفیر جموں و کشمیر کا پہلا دورہ تھا۔ انہوں نے سری نگر میں بھارتی زیرانتظام جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کی اور علاقے کو بھارت کا ’’اہم حصہ‘‘ قرار دیا۔ گور نے خطے کی سیکیورٹی صورت حال کے تناظر میں امریکی سفری ہدایات پر نظرثانی کا بھی عندیہ دیا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان جموں و کشمیر کا تنازع 1947 سے چلا آ رہا ہے۔ دونوں ممالک علاقے کے مختلف حصوں پر انتظام رکھتے ہیں اور دونوں کا کشمیر پر اپنا الگ مؤقف ہے۔ پاکستان مسلسل مؤقف اختیار کرتا ہے کہ تنازع کا حتمی حل اقوام متحدہ کی متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے جب کہ بھارت پورے جموں و کشمیر پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔

اگست 2019 میں بھارت نے اپنے زیرانتظام جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے بھارتی آئین کی دفعہ 370 سے متعلق خصوصی انتظام ختم کیا اور سابق ریاست کو دو وفاقی اکائیوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کیا۔ اس اقدام کے بعد پاکستان نے بھارت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی تنازع قرار دیا۔

Related posts