لیڈز ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں پاکستانی بیٹنگ لائن ناکام، پوری ٹیم 171 رنز پر آؤٹ

لیڈز ٹیسٹ کے پہلے روز انگلینڈ کے خلاف پہلی اننگز میں پاکستان کی پوری ٹیم ناقص پرفارمنس کے باعث 171 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی، قومی ٹیم کی جانب سے عبداللہ شفیق 61 اور امام الحق 42 رنز بناکر نمایاں رہے۔

لیڈز میں کھیلے جارہے پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کی دعوت پر پاکستان کی جانب سے اذان اویس اور امام الحق نے اننگز کا آغاز کیا لیکن اذان اویس اننگز کی پہلی ہی گیند پر اولی روبنسن گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے جب کہ پانچویں اوور میں 6 کے مجموعی اسکور پر شان مسعود بھی 5 رنز بناکر چلتے بنے۔

انگلینڈ کی جانب سے جارحانہ انداز میں بولنگ کا سلسلہ جاری تھا کہ 10 ویں اوور میں بارش کے باعث کھیل روکنا پڑگیا، اس وقت پاکستان کا اسکور 2 وکٹوں کے نقصان پر 23 اسکور تھا۔

مسلسل ہونے والی بارش کے باعث میچ میں کھانے کا وقفہ کردیا گیا تاہم وقفے کے بعد عبداللہ شفیق اور امام الحق نے محتاط انداز میں ٹیم کا اسکور آگے بڑھاتے ہوئے مجموعی اسکور 97 تک پہنچایا۔ اس دوران دونوں بلے بازوں کے درمیان 91 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی تاہم 97 کے اسکور پر پاکستان کو تیسرا نقصان امام الحق کی صورت میں اٹھانا پڑا، امام الحق 42 رنز بنانے کے بعد جوش ٹنگ کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

امام الحق کے آؤٹ ہوتے ہی ایک بار پھر وکٹیں گرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا، ایک وقت پر پاکستان ٹیم کی 97 رنز 3 وکٹیں گری تھیں تاہم اگلی 7 وکٹیں ٹیم کے مجموعی اسکور میں 74 رنز کے اضافے کے بعد سوکھے پتوں کی طرح گر گئیں۔

پاکستان کی جانب سے عبداللّٰہ شفیق سب سے زیادہ 61 رنز بناکر نمایاں رہے، اس کے علاوہ کپتان سلمان علی آغا 21، خرم شہزاد 14، محمد رضوان 12، شان مسعود اور سعود شکیل 5،5 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

اس طرح پاکستانی بیٹرز انگلینڈ کی بولنگ لائن کا 50 اوورز بھی جم کر سامنا نہ کرسکے اور پوری ٹیم 48.1 اوورز میں 171 رنز بناکر پویلین لوٹ گئی۔

انگلینڈ کی جانب سے فاسٹ بولر اولی روبنسن اور جوش ٹونگ نے 5،5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

میچ کا ٹاس

پاکستان اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان 3 میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز کا آج سے آغاز ہوچکا ہے، لِیڈز کے ہیڈنگلے کرکٹ گراؤنڈ کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ میں انگلش کپتان جو روٹ نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا۔

ٹاس جیتنے کے بعد انگلش کپتان جو روٹ کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی میرے لیے فخر کی بات ہے، پاکستان کو کم سے کم اسکور پر آئوٹ کرنے کی کوشش کریں گے،وکٹ میں کچھ نمی موجود ہے جس سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے کہا ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ ہی کرنا چاہتے تھے،گزشتہ روز آخری لمحات میں معلوم ہوا کہ میں کپتانی کروں گا،ہر سیریز ایک موقع ہوتی ہے اور ہماری کوشش ہے کہ یہاں کامیابی حاصل کی جائے۔

پاکستان کی فائنل الیون میں کپتان سلمان علی آغا، امام الحق، اذان اویس، عبداللّٰہ شفیق، شان مسعود، سعود شکیل، محمد رضوان، علی عثمان، خرم شہزاد، محمد علی اور محمد عباس شامل ہیں۔

انگلینڈ کی ٹیم میں کپتان جو روٹ، ایمیلی گائے، بین ڈکٹ، جارڈن کوکس، ہیری بروک، ڈین لارسن، جیمی اسمتھ، گس ایٹکنسن، جوفرا آرچر، اولی روبنسن اور جوش ٹنگ شامل ہیں۔

یاد رہےکہ سیریز کا دوسرا ٹیسٹ اگست کی 27 تاریخ کو تاریخی گراؤنڈ لارڈز میں اور تیسرا و آخری ٹیسٹ نو ستمبر سے برمنگھم کے ایجبیسٹن گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا۔

پاکستان ٹیم کو پہلے ٹیسٹ سے قبل ایک بڑا دھچکا اس وقت لگا جب مستقل کپتان بابر اعظم پریکٹس میچ کے دوران ہاتھ پر گیند لگنے سے زخمی ہو کر پہلے میچ سے باہر ہو گئے۔ ان کی غیر موجودگی میں سلمان علی آغا پاکستان کے 36ویں ٹیسٹ کپتان کے طور پر قیادت کی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔

سلمان علی آغا اس سے قبل دو ون ڈے اور پچاس ٹی 20 میچوں میں قومی ٹیم کی کپتانی کر چکے ہیں جب کہ وہ 27 ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ وکٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر رہنے والے شان مسعود بھی اب انتخاب کے لیے دستیاب ہیں۔

قومی ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز برابر کرنے کے بعد انگلینڈ پہنچی تھی جہاں انہوں نے تھری ڈے پریکٹس میچ میں سعود شکیل کی شاندار سنچری کی بدولت زبردست کامیابی حاصل کی۔

پاکستان کے ریڈ بال ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پریکٹس میچ بہت اچھا رہا، ہم نے بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں اپنی تمام تر تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور وارم اپ میچ بھی جیتا ہے۔ ٹیم کے حوصلے بہت بلند ہیں اور مجھے پورا یقین ہے کہ پوری ٹیم یہاں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے سلمان علی آغا کی کپتانی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بطور ٹیم مینجمنٹ ہمیں لِیڈز ٹیسٹ میں سلمان کی قیادت پر پورا بھروسہ ہے۔ وہ ان کھلاڑیوں میں سے ہیں جو قیادت کی ذمہ داری ملتے ہی مزید پرعزم ہو جاتے ہیں

انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک بابر اعظم کا تعلق ہے تو یہ بدقسمتی ہے کہ ان کے ہاتھ پر گیند لگی، لیکن ہمیں امید ہے کہ وہ دوسرے ٹیسٹ کے لیے مکمل فٹ ہو کر ٹیم میں واپس آ جائیں گے۔

تاریخی لحاظ سے پاکستان کا انگلینڈ کی سر زمین پر ریکارڈ کافی نمایاں رہا ہے جہاں قومی ٹیم نے لارڈز میں پانچ، اوول میں چار اور لِیڈز و مانچسٹر میں ایک ایک ٹیسٹ جیتا ہے۔ اب تک دونوں ممالک کے درمیان کھیلے گئے بانوے ٹیسٹ میچوں میں سے پاکستان نے تئیس میں فتح حاصل کی ہے جبکہ انتالیس میچز بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے۔

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر اس وقت انگلینڈ ساتویں اور پاکستان آٹھویں نمبر پر موجود ہے، جس کی وجہ سے یہ سیریز دونوں ٹیموں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

Related posts