وزیراعظم سے محسن نقوی کی ملاقات، عمران خان کی اسپتال منتقلی پر مشاورت
اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومتی سطح پر مشاورت جاری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات میں عمران خان کی ممکنہ اسپتال منتقلی اور سیکیورٹی انتظامات پر غور کیا گیا، جب کہ حکومتی وزرا نے عدالتی فیصلے کے قانونی اثرات پر اپنے مؤقف کی وضاحت کی ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وفاقی حکومت میں قانونی اور انتظامی سطح پر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔
اسی سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اہم ملاقات کی، جس میں عمران خان کی ممکنہ اسپتال منتقلی اور اس حوالے سے سیکیورٹی انتظامات پر مشاورت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتِ حال اور دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم اور وفاقی وزیر داخلہ کی ملاقات سے قبل وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے حکومت کے قانونی مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ قانون کے تحت قیدیوں کو علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے اور ضرورت پڑنے پر انہیں سرکاری اسپتالوں میں طبی علاج بھی دیا جاتا ہے۔
طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے صرف یہ وضاحت طلب کی گئی ہے کہ متعلقہ قانونی اصول تمام قیدیوں پر لاگو ہوتے ہیں یا نہیں۔ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ موجودہ طریقہ کار پر بھی لاگو ہوتا ہے تو حکومت اس پر مکمل پاسداری کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کسی قیدی کو علاج اور طبی سہولت سے محروم نہیں رکھنا چاہتی، تاہم قانون کی پاسداری کے ساتھ انسانی اور طبی تقاضوں کو بھی پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو اگر سرکاری ہسپتال میں مطلوبہ اور مناسب علاج دستیاب نہ ہو تو بہتر علاج کے لیے تمام قانونی راستوں پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ان میں شفا ہسپتال یا ضرورت پڑنے پر بیرونِ ملک علاج کا آپشن بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتوں سے سزا پانے والے افراد کو ریلیف بھی قانونی اور عدالتی طریقہ کار کے تحت ہی مل سکتا ہے۔ کسی وزیراعظم کے انتظامی حکم کے ذریعے عدالت سے سزا یافتہ افراد کی سزا ختم یا تبدیل نہیں کی جا سکتی۔
طارق فضل چودھری نے اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر ذاتی انتقامی کارروائی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی سیاسی انتقام کے تحت نہیں بلکہ قانون اور عدالتی فیصلوں کے مطابق اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا مقصد عدالتی فیصلے کی توہین یا اس پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالنا نہیں بلکہ یہ قانونی وضاحت حاصل کرنا ہے کہ عدالت کا فیصلہ کسی مخصوص قیدی کے معاملے تک محدود ہے یا اس کا اطلاق دیگر قیدیوں پر بھی ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ اپوزیشن لیڈر کو بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔ انہوں نے 9 مئی کے واقعات کو ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں ملوث افراد کو عدالتوں نے سزائیں سنائیں، تاہم کسی بھی ریلیف کے لیے قانونی اور عدالتی طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔
بعدازاں، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آئین اور قانون کی پابند ہے اور اس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دوبارہ دائر کر دی ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نظرثانی اپیل کا فیصلہ آنے دیں، اس سے معاملات واضح ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق نظرثانی اپیل کا فیصلہ آج یا کل آنے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے فوجداری نظامِ انصاف متاثر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ماتحت عدالتوں پر لازم ہوتا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا اس فیصلے کے بعد ہر قیدی کو نجی ہسپتال منتقل کیا جائے گا؟ اگر ایسا ہوا تو ماتحت عدالتوں کے پاس کوئی عذر نہیں رہے گا۔
رانا ثناء اللہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جیل سے اسپتال منتقلی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو جیل سے سرکاری سروسز اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ڈاکٹروں کے میڈیکل بورڈ نے ان کے بیرونِ ملک علاج کی تجویز دی تھی۔ میڈیکل بورڈ کی سفارش پر نواز شریف کے بیرونِ ملک علاج کی اجازت دی گئی۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق فیصلے کے خلاف حکومتی درخواست اعتراض لگا کر واپس کردی تھی۔ عدالتِ عظمٰی کی جانب سے پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کو 48 گھنٹے میں شفا اسپتال منتقل کرنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن بھی ختم ہو گئی ہے۔