چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کے وسیع اختیارات دینے کا بِل قومی اسمبلی سے منظور
قومی اسمبلی نے ’ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026‘ اور ’نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ‘ میں ترمیم کے بِل کو کثرتِ رائے سے منظور کرلیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے دونوں بِل ایوان میں پیش کیے جب کہ اپوزیشن نے ترامیم پر اعتراض کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔
جمعرات کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈیفنس فورسز ایکٹ ترمیمی بِل 2026 کی شق وار منظوری لی گئی، جسے ایوان نے کثرتِ رائے سے منظور کرلیا۔
پارلیمان میں نیشنل کمانڈ ایکٹ 2010 میں ترمیم کا مسودہ بھی منظوری کے لیے پیش کیا گیا، جسے متفقہ طور پر منظوری کیا گیا۔
اس سے قبل وفاقی کابینہ نے دفاعی افواج ایکٹ 2026 (ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026) کے مسودے اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترمیم کی منظوری دی تھی۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق دفاعی افواج ایکٹ 2026 کا مسودہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت کی گئی تبدیلیوں کے تسلسل میں تیار کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق اس ترمیم کا مقصد چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے اور چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز سے متعلق انتظامی امور کا تعین کرنا ہے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ وفاقی کابینہ نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010ء میں ترمیم کی بھی منظوری دی ہے، جو 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد ایک ضروری عمل تھا۔
قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد دنوں بِلوں کو اگلے مرحلے میں منظوری کے لیے سینیٹ بھیجا جائے گا۔
ایوان میں عددی اکثریت کو برقرار رکھنے اور بل کی کامیابی سے منظوری کو یقینی بنانے کے لیے مسلم لیگ (ن) نے اپنے تمام اراکینِ اسمبلی کو سخت ہدایات جاری کی تھیں۔
پارٹی قیادت کی جانب سے تمام اراکین کو آج کے اجلاس میں اپنی حاضری سو فیصد یقینی بنانے کا پابند کیا گیا تھا تاکہ قانون سازی کے اس عمل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔