امریکا میں ہجوم پر قابو پانے کیلئے ’بجلی کے جھٹکے والے دستانوں‘ کا متنازع معاہدہ

امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) نے گرفتاریوں، زیرِ حراست افراد کی منتقلی اور کشیدہ حالات میں قابو پانے کے لیے بجلی کے جھٹکے دینے کی صلاحیت رکھنے والے 6 ہزار خصوصی دستانے خریدنے کا 16.7 ملین ڈالر کا معاہدہ کر لیا ہے۔

وفاقی ریکارڈ کے مطابق یہ معاہدہ کینٹکی میں قائم کمپنی کمپلائنٹ ٹیکنالوجیز ایل ایل سی کو دیا گیا ہے۔ معاہدے میں دستانوں کے ساتھ ضروری معاون آلات، تکنیکی مدد اور دیگر خدمات بھی شامل ہیں، جبکہ خریداری کا عمل آئندہ چھ ماہ کے دوران مکمل کیا جائے گا۔

یہ دستانے عام دستانوں کی طرح پہنے جا سکتے ہیں، لیکن ان میں الیکٹرک سسٹم موجود ہے جسے اہلکار ایک بٹن کے ذریعے فعال کر سکتا ہے۔ الیکٹرک سسٹم فعال ہونے کے بعد دستانے براہِ راست انسانی جلد سے رابطے کی صورت میں تکلیف دہ برقی جھٹکا دے سکتے ہیں۔

آئی سی ای کے مطابق یہ دستانے ایسے حالات میں استعمال کیے جائیں گے جہاں کوئی شخص اہلکاروں کی ہدایات ماننے سے انکار کرے، گرفتاری کے دوران مزاحمت کرے یا زیرِ حراست شخص کو قابو کرنا مشکل ہو جائے۔

ٹیکساس کی جیل میں ایک سال سے استعمال

آئی سی ای جن دستانوں کو خرید رہا ہے، ان کا استعمال ٹیکساس کی ٹیرنٹ کاؤنٹی جیل میں گزشتہ ایک سال سے کیا جا رہا ہے۔ یہ جیل تقریباً 5 ہزار قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش رکھتی ہے۔

جیل میں یہ دستانے عام اہلکاروں کے بجائے تربیت یافتہ سپروائزرز کے لیے مخصوص ہیں۔ برقی جھٹکا کھلی جلد پر براہِ راست لگایا جائے گا تاکہ مزاحمت کرنے والے شخص کو قابو کیا جا سکے۔

ٹیرنٹ کاؤنٹی کے شیرف بل وے برن کے مطابق جیل میں دستانوں کا استعمال چند مرتبہ کیا گیا اور ہر مرتبہ مطلوبہ نتیجہ حاصل ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں نہ افسر زخمی ہوا اور نہ ہی جس شخص کو قابو کیا گیا اسے چوٹ آئی۔

شیرف وے برن کا کہنا ہے کہ جیل میں دستانوں کے استعمال کا تجربہ دیکھنے کے بعد ان کے خیال میں یہ ٹیکنالوجی جیل کی حدود سے باہر بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے کارآمد ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص تعاون نہ کرے تو دستانے اسے جلد قابو کرنے میں مدد دے سکتے ہیں اور صورت حال کو زیادہ سنگین ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔

یہ خصوصی دستانے کہاں استعمال کیے جائیں گے؟

آئی سی ای کے مطابق یہ دستانے ایسے حالات میں استعمال کیے جا سکتے ہیں جہاں کوئی شخص گرفتاری کے دوران مزاحمت کر رہا ہو، زیرِ حراست فرد کو منتقل کرنا مشکل ہو رہا ہو یا کسی ہنگامہ خیز صورتحال میں فوری طور پر قابو پانے کی ضرورت ہو۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ان دستانوں کا مقصد ہر صورت میں طاقت کا استعمال کرنا نہیں بلکہ بعض حالات میں اہلکاروں کو ایک اضافی ذریعہ فراہم کرنا ہے، تاکہ زیادہ شدید طاقت کے استعمال سے بچا جا سکے۔

آئی سی ای کے مطابق دستانے ان افراد کو قابو کرنے میں بھی مدد دے سکتے ہیں جو اپنے ہاتھ چھپا رہے ہوں، جارحانہ رویہ اختیار کر رہے ہوں یا فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہوں۔

خریداری پر سیاسی اور شہری حقوق کے حلقوں کے تحفظات

ان دستانوں کی خریداری کو سیاسی اور شہری حقوق کے حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی ہے۔

نیواڈا سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ سینیٹر کیتھرین کورٹیز ماسٹو کی قیادت میں 16 ڈیموکریٹ سینیٹرز نے آئی سی ای سے دستانوں کی خریداری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ سینیٹرز نے سوال اٹھایا کہ اس ٹیکنالوجی کی ضرورت کیوں پیش آئی اور افسران کو اسے استعمال کرنے کی اجازت کن حالات میں ہوگی۔

سینیٹرز نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ آئی سی ای دستانوں کے استعمال سے متعلق تربیت، نگرانی اور ریکارڈ رکھنے کے طریقہ کار کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرے۔ ان کے مطابق ایسے آلے کے استعمال کے لیے واضح حدود ضروری ہیں تاکہ کسی شخص پر بلاوجہ طاقت استعمال نہ ہو۔

شہری حقوق کی تنظیموں کو بھی خدشہ ہے کہ بجلی کا جھٹکا دینے والے دستانوں کے غلط استعمال کا امکان موجود ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جہاں امیگریشن کارروائیوں یا احتجاج کے دوران پہلے ہی طاقت کے استعمال پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

آئی سی ای کا مؤقف

امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) امریکا کا ایک سرکاری ادارہ ہے جو ملک میں امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کرانے، غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو گرفتار کرنے اور انہیں ملک بدر کرنے کی کارروائی کرتا ہے۔

اس محکمے نے دستانوں کی خریداری کا دفاع کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو اپنی حفاظت کے لیے ضروری آلات فراہم کرنا ضروری ہے۔

آئی سی ای کے مطابق دستانے منظور شدہ پالیسی، تربیت اور جوابدہی کے اصولوں کے تحت استعمال کیے جائیں گے۔ ادارے کا مؤقف ہے کہ ان کا مقصد ایسے حالات میں اہلکاروں کو ایک اضافی آپشن فراہم کرنا ہے جہاں کسی مزاحمت کرنے والے شخص کو فوری طور پر قابو کرنا ضروری ہو۔

تاہم دستانوں کے استعمال سے متعلق بعض اہم تفصیلات اب بھی واضح نہیں ہیں، جن میں یہ شامل ہے کہ افسر کن مخصوص حالات میں بجلی کا جھٹکا دے سکیں گے، اس کا دورانیہ کتنا ہوگا اور ہر واقعے کے بعد نگرانی یا طبی جانچ کا کیا طریقہ کار ہوگا۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کے تحت آئی سی ای کی کارروائیاں امریکا میں سیاسی اور قانونی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ دستانوں کے حامی انہیں گرفتاری کے دوران طاقت کے مختلف درجوں کے درمیان ایک اضافی ذریعہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ مخالفین ان کی ضرورت، استعمال کی حدود، ممکنہ غلط استعمال اور نگرانی کے نظام پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

Related posts