سانحہ پمز کے ذمہ داروں کا تعین کرکے سخت سزا دی جائے، قومی اسمبلی میں قرارداد منظور

قومی اسمبلی نے سانحہ پمز پر متفقہ قرارداد اور خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تحریک مںظور کرلی، قرارداد میں واقعے کے ذمہ داروں کا تعین اورسخت سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پارلیمانی سیکریٹری دانیال چوہدری نے جمعے کو سانحہ پمز سے متعلق قرارداد ایوان میں پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ سانحہ پمز ایک دلخراش واقعہ ہے، جس پر سب کے دل رنجیدہ ہیں۔ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ سانحہ پمز کے ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں سخت سزا دی جائے۔

وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ نے کہا کہ سانحہ پمز پر تحقیقاتی کمیٹی آج رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی، انہوں نے کہا کہ تفصیلی رپورٹ سات روز میں تیار ہوگی جس کے بعد ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر سیاست کے بجائے ٹھوس تجاویز دینی چاہئیں۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پمز سانحہ انتہائی دلخراش واقعہ ہے، جس پر سب کے دل رنجیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو 50، 50 لاکھ روپے دیے جائیں گے تاہم یہ معاوضہ جانی نقصان کا متبادل نہیں ہوسکتا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ واقعے کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے، پمز سانحے کی تحقیقات اوپن ہونی چاہیے اور مستقبل میں ایسے حادثات سے بچاؤ کے لیے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

دوسری جانب سینیٹ اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر سعدیہ عباسی نے پمز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کی تقرری اور سانحے سے متعلق اپنی ہی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

سعدیہ عباسی نے کہا کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کی تقرری کے بورڈ میں وہ خود موجود تھیں، جبکہ انہوں نے اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے ای ڈی پمز کی تقرری کی بہت مخالفت کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی نے ای ڈی پمز کی تعیناتی کی بھرپور حمایت کی تھی۔ ای ڈی پمز کی رسائی ایسی جگہ ہے جہاں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا، وہ بہت طاقتور ہیں اور وزیراعظم بھی انہیں معطل نہیں کرسکے۔

سینیٹر سعدیہ عباسی نے الزام عائد کیا کہ ای ڈی پمز اس واقعے کے قصوروار ہیں اور انہیں گرفتار کیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ای ڈی پمز قاتل ہیں، اس کے باوجود انہیں عہدے سے نہیں ہٹایا گیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم اس بات کی ذمہ داری قبول کریں کہ واقعے میں لاپرواہی ہوئی ہے۔ سعدیہ عباسی کا کہنا تھا کہ کسی نے بھی اس سانحے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

سینیٹ میں بھی سانحہ پِمز کی تحقیقات کےلیے خصوصی کمیٹی کی تحریک منظور کرلی گئی۔ پی ٹی آئی رہنما علی ظفر نے تحریک پیش کرنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو حکومت کی بنائی کمیٹی پر یقین نہیں۔ انہوں نے سینیٹ کی تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی اپوزیشن کو دینے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پِمز واقعے پر اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ چھپانے کی کوئی نیت ہے اور نہ ہی کسی کو بچایا جائے گا۔

Related posts