کھلاڑیوں کے مبینہ ڈسپلن کی خلاف ورزی، پی سی بی کی اندرونی تحقیقات شروع
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں مبینہ نظم و ضبط اور رویے سے متعلق میڈیا رپورٹس کے بعد اندرونی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
پی سی بی کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس کا اندرونی طور پر جائزہ لیا جا رہا ہے اور معاملے کو بورڈ کے مقررہ قوانین اور طریقہ کار کے مطابق دیکھا جا رہا ہے۔
بورڈ کے مطابق تحقیقات کے دوران تمام متعلقہ افراد کا مؤقف اور دیگر پہلوؤں کو مناسب اہمیت دی جائے گی۔ پی سی بی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ عمل پی سی بی کے ضوابط کے تحت جاری ہے، جس میں تمام متعلقہ افراد کو مناسب طور پر زیرِ غور لایا جا رہا ہے۔
پی سی بی نے تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ کن میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔ بورڈ نے کسی کھلاڑی کا نام بھی نہیں لیا اور نہ ہی میڈیا میں گردش کرنے والے الزامات کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب پی سی بی نے غیر مصدقہ اور قیاس آرائیوں پر مبنی دعوؤں کو قابلِ اعتماد سمجھنے سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ بعض دعوے ”دشمن بیرونی ذرائع“ سے سامنے آ رہے ہیں، اس لیے ان پر احتیاط سے غور کیا جانا چاہیے۔
پی سی بی کا مزید کہنا ہے کہ بورڈ اس وقت مزید کوئی تبصرہ نہیں کرے گا اور متعلقہ حلقوں سمیت عوام کو مشورہ دیا کہ وہ معاملے سے متعلق معلومات کے لیے صرف بورڈ کے سرکاری بیانات پر انحصار کریں۔
یہ پیش رفت پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ کے دورۂ انگلینڈ کے دوران کھلاڑیوں کے مبینہ ڈسپلن اور آف دی فیلڈ رویے سے متعلق سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے بعد ہوئی ہے۔
بعض رپورٹس میں محمد رضوان اور امام الحق کے نام بھی مبینہ طور پر آف دی فیلڈ معاملات کے حوالے سے لیے گئے ہیں، تاہم پی سی بی نے نہ تو ان دونوں کھلاڑیوں کو جاری تحقیقات سے منسلک کیا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف سامنے آنے والے کسی الزام کی تصدیق کی ہے۔
فی الحال بورڈ کی جانب سے صرف اتنا تصدیق کیا گیا ہے کہ پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ سے متعلق ایک اندرونی انکوائری جاری ہے۔ تحقیقات میں کن الزامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور کن افراد کو اس عمل میں شامل کیا گیا ہے، اس بارے میں پی سی بی نے باضابطہ طور پر کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔