‘آخری بار میر رضا کو واٹس ایپ پر میسیج کیا تھا’، جوڈیشل کمیشن میں مقتول کے دوست کے بیانات ریکارڈ
کراچی میں میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں میر رضا کے دوست رازق کا بیان قلم بند کیا گیا، جبکہ ایس ایچ او گلستان جوہر کامران قریشی سے بھی کمیشن نے سخت سوالات کیے۔ سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے تمام بیانات اور ریکارڈ فراہم نہ کیے جانے پر کمیشن نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور تفتیشی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی عامر فاروقی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کرلی۔
سماعت کے آغاز پر میر رضا کے دوست رازق نے کمیشن کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ رازق نے بتایا کہ وہ ایک سافٹ ویئر ہاؤس میں کام کرتا ہے اور 27 جولائی کو میر رضا نے اسے پک کیا تھا۔ ان کے مطابق 27 جولائی کو ہی میر رضا سے ان کی آخری ملاقات ہوئی۔
رازق نے بتایا کہ انہوں نے آخری مرتبہ میر رضا کو واٹس ایپ پر پیغام بھیجا تھا، تاہم بعد میں میر رضا کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ ہوگیا تھا۔
گاڑی سے متعلق سوال پر رازق نے بتایا کہ ان کے پاس کرائے کی گاڑی ہے جس کا وینڈر سراج ہے۔ اس موقع پر جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ کیا کبھی ان کی گاڑی کسی گیسٹ ہاؤس گئی تھی؟ رازق نے جواب دیا کہ ان کی گاڑی کبھی کسی گیسٹ ہاؤس نہیں گئی۔
رازق نے بتایا کہ گاڑی میں ٹریکر موجود ہے اور اس کی معلومات ویری فائی کروائی جاسکتی ہیں۔
میر رضا کے کمرے کی تلاشی کے حوالے سے جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ کیا انہوں نے میر رضا کے کمرے کی تلاشی لی تھی؟ رازق نے جواب دیا کہ وہ کمرے کی تلاشی کے دوران موجود تھے۔
انہوں نے بتایا کہ کمرے کی تلاشی کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کوئی سفری دستاویز یا نوٹ مل جائے۔ رازق کے مطابق اس دوران وہ، احمد اور عبداللہ تین افراد کمرے کے اندر موجود تھے۔
گاڑی کی تلاشی کے حوالے سے رازق نے کہا کہ جب گاڑی کی تلاشی لی گئی تو وہ وہاں موجود نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ میر رضا کے والد کیوں یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ گاڑی کی تلاشی کے دوران وہاں موجود تھے۔
رازق نے مزید بتایا کہ وہ میر رضا کی فیملی سے اتنے قریب نہیں تھے جتنے حیسم تھے۔
میر رضا کی اسمارٹ واچ سے متعلق بھی کمیشن میں سوالات ہوئے۔ کمیشن نے رازق سے پوچھا کہ انہوں نے علیشباہ کو میر رضا کی اسمارٹ واچ کھولنے کے لیے کیوں کہا تھا؟
رازق نے جواب دیا کہ اسمارٹ واچ کے ذریعے میر رضا کے فون کا پتا لگانے کی کوشش کی جاسکتی تھی۔ ان کے مطابق اسمارٹ واچ میں دو نوٹس موجود تھے جو انہوں نے خود دیکھے تھے۔
اس موقع پر علیشباہ نے بتایا کہ انہیں میر رضا کے کچھ کوڈز یاد تھے، اس لیے انہوں نے کوڈ ڈال کر اسمارٹ واچ کھولی تھی۔ رازق نے بتایا کہ ان سب کی کوشش تھی کہ میر رضا کے آئی کلاؤڈ تک رسائی حاصل کی جائے۔
کرپٹو کرنسی سے متعلق سوالات پر رازق نے بتایا کہ انہیں کرپٹو میں نقصان ہوا تھا، جس کے بعد انہوں نے اس کا استعمال چھوڑ دیا تھا۔ تاہم ان کے مطابق میر رضا کرپٹو میں ٹریڈنگ کر رہا تھا، حالانکہ اسے بھی نقصان ہوچکا تھا۔
رازق نے بتایا کہ مجتبیٰ نام کا ایک لڑکا تھا جس سے میر رضا کرپٹو کے حوالے سے رابطے میں رہا تھا۔ ان کے مطابق مجتبیٰ سے ان کی پہلی ملاقات اس واقعے کے بعد پولیس اسٹیشن میں ہوئی تھی۔
رازق نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ میر رضا کے پاس کرپٹو میں کوئی سرمایہ کاری کرنا چاہتا تھا یا نہیں۔
میر رضا اور احمد کے تعلقات کے بارے میں رازق نے کمیشن کو بتایا کہ دونوں کے درمیان اچھے تعلقات تھے اور انہوں نے کبھی دونوں کو جھگڑتے نہیں دیکھا۔ رازق کے مطابق میر رضا اور احمد کے درمیان کسی اختلاف کا بھی انہیں کبھی علم نہیں ہوا۔
دوسری جانب سماعت کے دوران میر رضا کے دوستوں کے بیانات کے پولیس ریکارڈ پر بھی کمیشن نے سخت اعتراضات اٹھائے۔
رازق نے بتایا کہ پولیس نے ان سے مالی معاملات اور ذہنی تناؤ سمیت ایک سال پرانی باتوں کے بارے میں سوالات کیے تھے۔ ان کے مطابق پولیس نے ان کا بیان تقریباً تین گھنٹے تک لیا، لیکن کمیشن کے سامنے جو ریکارڈ پیش کیا گیا اس میں صرف سات لائنوں کا بیان موجود تھا۔
کمیشن نے سوال کیا کہ پولیس نے ان کے بیان میں یہ معلومات کیوں شامل نہیں کیں اور کیا انہوں نے بیان اپنی مرضی سے دیا تھا یا پولیس نے زور زبردستی کی؟
رازق نے کہا کہ کمیشن نے جو سوالات ان سے کیے تھے، وہی سوالات تفتیشی افسر نے بھی کیے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنا بیان خود بھی نہیں دیکھا۔
اس پر کمیشن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر کمیشن کو گمراہ کرنے کے لیے مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔ کمیشن نے سوال اٹھایا کہ بیانات میں ایسا کیا ہے جو چھپایا جا رہا ہے۔
کمیشن نے سندھ حکومت کی جانب سے تمام بیانات کی نقول فراہم نہ کیے جانے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ کمیشن نے پولیس سے تمام بیانات طلب کیے تھے، اس کے باوجود مکمل ریکارڈ کیوں پیش نہیں کیا گیا۔
بعد ازاں ایس ایچ او گلستان جوہر کامران قریشی کو کمیشن کے روبرو طلب کیا گیا۔ کمیشن نے ان سے پولیس فورس میں شمولیت اور گلستان جوہر میں تعیناتی سے متعلق سوالات کیے۔
کامران قریشی نے بتایا کہ انہوں نے 2014 میں پولیس فورس جوائن کی تھی اور اپریل 2026 میں گلستان جوہر میں تعینات ہوئے۔
کمیشن نے سوال کیا کہ انہیں انویسٹی گیشن کے لیے کتنی رقم ملتی ہے؟ کامران قریشی نے جواب دیا کہ یہ بات انویسٹی گیشن والے بہتر بتا سکتے ہیں۔
اس جواب پر کمیشن نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے ساتھ زیادہ ہوشیاری کرنے کی ضرورت نہیں، مجھے معلوم ہے کہ ایس ایچ او کو سب معلوم ہوتا ہے، بے وقوف بنانے کی ضرورت نہیں، آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔‘‘
کمیشن نے مزید ریمارکس دیے کہ اگر کامران قریشی کو انویسٹی گیشن کے لیے ملنے والی رقم کا علم نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اس عہدے کے لیے بھی فٹ نہیں ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ انہوں نے اپنے بیان کی شروعات ہی جھوٹ سے کی ہے۔
کامران قریشی نے بتایا کہ ان کے خلاف کبھی کوئی تادیبی کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی معاملے سے متعلق معلومات ملتی ہیں تو وہ کبھی خود موقع پر جاتے ہیں اور کبھی کسی دوسرے اہلکار کو بھیجتے ہیں۔
میر رضا کی لاش ملنے سے متعلق سوال پر کامران قریشی نے بتایا کہ انہیں 29 جولائی کو رات 12 بج کر 36 منٹ پر لاش کی اطلاع ملی۔ نرسری کے ملازم قیصر نے انہیں لاش کی اطلاع دی تھی۔
ان کے مطابق اطلاع ملنے کے وقت وہ کسی دوسرے کیس میں مصروف تھے۔ اے ایس آئی اظہر پہلا پولیس اہلکار تھا جو موقع پر پہنچا، جبکہ ندیم مغل ڈائریکٹ اسپتال چلا گیا تھا۔
کامران قریشی نے بتایا کہ اظہر نے انہیں لاش کی تصاویر بھیجی تھیں اور انہوں نے تلاش ایپ کے ذریعے لاش سے متعلق معلومات حاصل کرنے کو کہا تھا۔ انہوں نے اظہر کو اس گیسٹ ہاؤس بھیجا جہاں جھگڑے کی اطلاع تھی۔
ایس ایچ او کے مطابق اظہر نے بتایا کہ ایک خاندان بچے کو تلاش کررہا ہے اور خاندان کے کسی فرد نے لاش کی شناخت کرلی ہے۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ گمشدگی کا مقدمہ فیروزآباد تھانے میں درج ہے۔
کامران قریشی نے بتایا کہ اس وقت تک لاش کو اسپتال منتقل کیا جاچکا تھا۔
کرائم سین کے حوالے سے کمیشن نے سوال کیا کہ پولیس کرائم سین یونٹ کو کس طرح اطلاع دیتی ہے؟ کامران قریشی نے بتایا کہ 15 پر کال کرنے والے خود کرائم سین یونٹ کو اطلاع دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ڈسٹرکٹ ایسٹ میں کرائم سین کے تین یونٹ ہیں۔
کمیشن نے پوچھا کہ ایسی صورتحال میں پولیس کا پروٹوکول کیا ہوتا ہے؟ کامران قریشی نے جواب دیا کہ پولیس کو کرائم سین محفوظ بنانا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ایس ایچ او فیروزآباد اور ایس آئی او کو بھی اطلاع دی گئی تھی، جس کے بعد ایس آئی او شبیر لغاری موقع پر پہنچ گئے۔
کامران قریشی نے بتایا کہ ان کا اسٹاف تفتیشی ٹیم کو مدد فراہم کررہا تھا کیونکہ لاش ان کی حدود سے ملی تھی۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیجز اکٹھی کرنے میں بھی مدد کی تھی اور اعلیٰ حکام نے تفتیشی افسر کی معاونت کرنے کی ہدایت کی تھی۔
گیسٹ ہاؤس میں مبینہ غیر اخلاقی سرگرمیوں کے حوالے سے کمیشن نے کامران قریشی سے سخت سوالات کیے۔ ایس ایچ او نے کہا کہ انہیں علم نہیں تھا کہ گیسٹ ہاؤس میں کیا چل رہا تھا۔
کمیشن نے سوال کیا کہ ’’ایسا کیسے ممکن ہے، آپ کے علاقے میں بروتھل کیسے چل رہا تھا؟‘‘
گیسٹ ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کے حوالے سے کمیشن نے پوچھا کہ انہیں کس نے نکالا اور جب گیسٹ ہاؤس پہنچے تو کیا ان کے ساتھ تفتیشی افسر بھی موجود تھا؟
کامران قریشی نے بتایا کہ انہوں نے پہلے فوٹیجز دیکھنا شروع کیں اور بعد میں فیروزآباد پولیس کو لوکیشن بھیجی۔ کمیشن نے سوال کیا کہ جب وہاں آئی او موجود نہیں تھا تو وہ سی سی ٹی وی کیوں دیکھ رہے تھے؟
کامران قریشی نے جواب دیا کہ ایس ایچ او فیروزآباد کی ہدایت پر وہ گیسٹ ہاؤس گئے تھے۔ ان کے مطابق انویسٹی گیشن کے لیے ایس پی اور ایس ایس پی ہدایت دے سکتے ہیں۔
کمیشن نے فوٹیجز کے میمو سے متعلق سوال کیا تو کامران قریشی نے بتایا کہ جب ڈی وی آر کلیکٹ کیا گیا تو وہ وہاں موجود نہیں تھے۔
میر رضا کی موت کو خودکشی قرار دینے کے امکان سے متعلق سوال پر کامران قریشی نے کہا کہ لاش کافی خراب تھی، اس لیے وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میر رضا نے خودکشی کی ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ ملاپ سے اپ ڈیٹس آتی رہتی ہیں، تاہم انہوں نے خود وہ اپ ڈیٹ نہیں دیکھی۔ کامران قریشی نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اس کیس کی کوئی کیس ڈائری نہیں بنائی۔
کرائم سین یونٹ کے پہنچنے کے وقت سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ بعض کیسز میں کرائم سین یونٹ پولیس سے پہلے پہنچ جاتا ہے جبکہ بعض اوقات اسے پہنچنے میں دو گھنٹے تک لگ جاتے ہیں۔
کمیشن نے شواہد غائب ہونے سے متعلق بھی سوالات کیے۔ کامران قریشی نے بتایا کہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد لاش کو وہاں سے روانہ کیا گیا۔ ان کے مطابق جس جگہ سے لاش ملی تھی وہاں تک پہنچنا کافی مشکل تھا۔
نرسری کے ملازمین سے تفتیش کے حوالے سے کامران قریشی نے کہا کہ ان کی جانب سے یا ان کے اسٹاف نے نرسری ملازمین سے تفتیش نہیں کی۔
احمد اور عبداللہ سے رابطے کے معاملے پر کمیشن نے کامران قریشی سے سوالات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دونوں کو سوشل میڈیا پوسٹ کی وجہ سے جانتے تھے۔
اس موقع پر جبران ناصر نے بتایا کہ کال ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ 9 اگست کو کامران قریشی نے احمد اور عبداللہ کو کال کی تھی۔
کامران قریشی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دونوں سے بیان ریکارڈ کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا۔ کمیشن نے سوال کیا کہ جب آپ کے پاس انویسٹی گیشن نہیں تھی تو آپ انہیں کال کیوں کررہے تھے؟ آپ کا ان سے کیا لینا دینا تھا؟
کامران قریشی نے جواب دیا کہ انہوں نے صرف کچھ معلومات حاصل کرنے کے لیے کال کی تھی، تاہم دونوں نے انہیں کوئی معلومات نہیں دیں۔
میر رضا کے فون کی ریکوری سے متعلق سوال پر کامران قریشی نے کہا کہ ان کے سامنے فون برآمد نہیں ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ پستول کا خول ملنے کے وقت وہ موقع پر موجود تھے۔
کمیشن نے سوال کیا کہ کیا پولیس جھوٹا ثبوت ڈالنے کے لیے وہاں گئی تھی؟ کامران قریشی نے جواب دیا کہ انہوں نے خول برآمد کیا تھا، حالانکہ یہ ان کا کام بھی نہیں تھا۔
کامران قریشی کے مطابق 6 اگست کو خول ملنے کے وقت کئی ایس ایچ اوز موقع پر آئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے سرچنگ کی تھی اور گملوں کی جانب سے خول ملا تھا۔
کمیشن نے سوال کیا کہ اگر لاش کے قریب کوئی نہیں گیا تھا تو انہیں 12 فٹ کے فاصلے پر خول ملنے کا کیسے علم ہوا؟
سماعت کے دوران کرائم سین پر آگ لگنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ کامران قریشی نے کہا کہ وہاں آگ پولیس نے نہیں لگائی تھی بلکہ سمیع اللہ سومرو نے آگ لگائی تھی۔
اس پر کمیشن نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ لوگوں نے سارے کرائم سین کو جلایا ہے، کیا یہ ٹھیک طریقہ ہے کہ کرائم سین کو جلا دیا جائے؟‘‘
کامران قریشی نے بتایا کہ ہیڈ محرر ذیشان نے اس حوالے سے میمو بھی بنایا تھا۔
کمیشن نے مزید پوچھا کہ پولیس نے اپنے تھانے میں کتنے لوگوں کو حراست میں لیا تھا؟ کامران قریشی نے جواب دیا کہ اس کیس کی وجہ سے کسی کو بھی حراست میں نہیں لیا گیا۔
سماعت کے دوران جسٹس عمر سیال نے بھی کامران قریشی کے کردار پر سخت ریمارکس دیے اور کہا کہ ’’آپ کو صحیح معطل کیا گیا ہے۔‘‘
آخر میں کمیشن نے پولیس کی جانب سے تمام بیانات اور ریکارڈ فراہم نہ کیے جانے پر ڈی آئی جی عامر فاروقی کو نوٹس جاری کردیا اور ریکارڈ کی عدم فراہمی سے متعلق وضاحت طلب کرلی۔
کمیشن نے کہا کہ بظاہر کمیشن کو گمراہ کرنے کے لیے مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا، جس سے میر رضا کے والدین کے خدشات درست معلوم ہوتے ہیں۔
کمیشن نے عدیل افضال سے معذرت کرتے ہوئے کارروائی کل تک ملتوی کردی۔ کمیشن کے مطابق میر رضا کے دوست ذیشان اور عدیل افضال کے بیانات کل سنے جائیں گے، جبکہ پولیس سے تمام متعلقہ بیانات اور ریکارڈ مکمل طور پر فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔