‘کون کہتا ہے پیسے نہیں ہیں’: ایس سی او اجلاس کے لیے اربوں روپے کی بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری پر تنازع
اسلام آباد میں آئندہ ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے لیے اربوں روپے مالیت کی 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے معاملے نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ایس سی سی) کے اجلاس میں غیر ملکی سربراہانِ مملکت کی آمد و رفت کے لیے تیس نئی بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی مد میں چھ ارب ساٹھ کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی ہے۔
کابینہ ڈویژن نے ابتدا میں بارہ ارب ساٹھ کروڑ روپے کی درخواست کی تھی، تاہم کمیٹی نے فی الوقت چھ ارب ساٹھ کروڑ روپے کی رقم منظور کرتے ہوئے مزید تجزیہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
حکومت کے اس فیصلے پر اپوزیشن رہنماؤں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے سخت ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
معروف سیاست دان اور وکیل فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ”کیا اس سے بڑا مذاق ہو سکتا ہے، کل پیٹرول کی قیمت میں 13 روپیہ اضافہ کر کے آج چھ ارب 60 کروڑ روپے کی 30 نئی بلٹ پروف گاڑیاں آرڈر کر دیں۔“
انہوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے مزید کہا کہ ”اسلامی سربراہی کانفرنس میں بھٹو صاحب نے گاڑیاں اور ہوٹل نہیں بنوائے تھے، انہوں نے امیر صنعت کاروں سے سات دن کے لیے گاڑیاں لیں اور کانفرنس ہو گئی“۔
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ”شہباز شریف اور اسحاق ڈار اس غریب ملک پر رحم کریں، ایسے فیصلے تباہ کن ہیں۔“
اسی طرح وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر اور معاشی ماہر مزمل اسلم نے اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ”کیا حکومت تین دن کے لیے یہ گاڑیاں کرائے پر نہیں لے سکتی؟“
گیلپ پاکستان کے ایگزیکیوٹیو ڈائریکٹر بلال گیلانی نے بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”کون کہتا ہے کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں، پاکستان کے سب سے بڑے معاشی فیصلے کرنے والے ادارے نے ان گاڑیوں کے لیے اتنی بڑی رقم کی منظوری دے دی ہے۔“
واضح رہے کہ پاکستان کو بشکیک اجلاس کے بعد شنگھائی تعاون تنظیم کی ایک سال کے لیے صدارت ملی ہے اور یہ اجلاس 2027 میں اسلام آباد میں ہوگا۔