‘انتخابات نہ ہونے تک میئر اور چیئرمین انتظام سنبھالیں گے’: سندھ کے بلدیاتی نظام میں اہم ترامیم کا مسودہ تیار

سندھ حکومت نے ’بلدیاتی ایکٹ 2013‘ میں جامع ترامیم کا مسودہ تیار کر لیا ہے، نئے ’سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026‘ کو آج دو بجے ہونے والے سندھ اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس سے قبل ان مجوزہ ترامیم کا مسودہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں بھی پیش کیا جا چکا ہے۔

اس ترمیمی بل کا بنیادی مقصد میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور وائس چیئرمین کے اختیارات کو بالکل واضح کرنا اور بلدیاتی کونسلوں و صوبائی محکموں کے درمیان رابطہ کاری کے نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

مجوزہ ترمیمی بل کے مطابق بلدیاتی انتخابات کا طریقہ کار اور شیڈول کونسل کی مدت ختم ہونے سے ایک سو بیس روز قبل شروع کرنا لازمی قرار دیا جائے گا۔

اگر کسی وجہ سے بروقت انتخابات نہ ہو سکیں تو نئے منتخب میئر یا چیئرمین کے عہدہ سنبھالنے تک سبکدوش ہونے والے میئر یا چیئرمین ہی بطور ایڈمنسٹریٹر اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔

اس کے علاوہ اگلے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد تک میئر کراچی اور دیگر تمام چیئرمینز بطور ایڈمنسٹریٹر کارروائی جاری رکھیں گے۔

بل میں یہ ترمیم بھی شامل کی گئی ہے کہ یونین کونسل اور یونین کمیٹی کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد منظور کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت کا ہونا ضروری ہوگا۔

اس ترمیم کے تحت انتظامی امور اور عوامی بہبود کے لیے کئی نئی تجاویز دی گئی ہیں۔ ڈپٹی میئر یا وائس چیئرمین کو متعلقہ کونسل کا کنوینر مقرر کرنے کی تجویز ہے جو کونسل کے اجلاسوں کی صدارت اور تمام تر کارروائی کو منظم کرے گا۔

کراچی سمیت مستقبل کی تمام میٹروپولیٹن کارپوریشنز کے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ میٹروپولیٹن کمشنر کے نام سے جانا جائے گا۔

عوامی مسائل کے حل کے لیے یونین، ٹاؤن اور میونسپل کمیٹی کی سطح پر مصالحتی فورمز قائم کیے جائیں گے جن میں علاقے کے تین قابلِ احترام مصالحت کار شامل ہوں گے جو کمیونٹی کے تنازعات کو باہمی رضامندی سے حل کروائیں گے۔

بلدیاتی نمائندوں اور پولیس کے درمیان رابطے اور قانون کی عملداری کے لیے بھی اہم شقیں شامل کی گئی ہیں۔

مجوزہ ترمیم کے تحت یونین کونسل کا چیئرمین اپنے علاقے میں ہونے والی کسی بھی غیر قانونی تعمیر کی اطلاع دینے کا پابند ہوگا۔

اس کے ساتھ ساتھ سندھ بھر کے تھانوں کے ایس ایچ اوز اور اضلاع کے ایس ایس پیز پر لازم ہوگا کہ وہ مؤثر پولیسنگ، امن و امان اور عوامی تحفظ کی خاطر متعلقہ بلدیاتی نمائندوں، چیئرمینوں اور میئر کے ساتھ مسلسل رابطہ قائم رکھیں۔

سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کا یہ نیا ترمیمی مسودہ آج ایوان کے سامنے باقاعدہ پیش کر دیا جائے گا۔

Related posts