برمنگھم ٹیسٹ: بیٹنگ لائن پھر ناکام، گرین شرٹس پہلی اننگز میں 133 رنز پر ڈھیر

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا تیسرا اور آخری میچ آج برمِنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں کھیلا جا رہا ہے جہاں گرین شرٹس پہلی اننگز میں 133 رنز پر ڈھیر ہوگئی ہے۔ گزشتہ دو میچز بیٹنگ لائن بری طرح ناکام ہونے کے بعد ٹیم میں چار تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں، اس کے باوجود گرین شرٹس انگلش بالرز کی تباہ کُن بولنگ کے سامنے پریشانی کا شکار نظر آئی۔

ایجبسٹن میں جاری ٹیسٹ میں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ تیسرے ٹیسٹ میں بھی قومی ٹیم بیٹنگ کے شعبے میں مشکلات کا شکار نظر آرہی ہے اور کھیل کے پہلے روز ہی پہلی اننگ میں محض 133 رنز پر ڈھیر ہوچکی ہے۔

پہلی اننگ میں قومی ٹیم کا بیٹنگ آرڈر ایک بار پھر ناکام نظر آیا۔ 8 کھلاڑی ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہوسکے جب کہ سعود شکیل کے علاوہ ڈبل فیگر اسکور بنانے والے دونوں کھلاڑی، محمد عباس اور رضاء اللہ بھی بالر ہیں۔

پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز ٹیم میں کم بیک کرنے والے اوپنر صائم ایوب اور اذان اویس نے کیا، تاہم صائم ایوب محض 8 رنز پر اولی رابنسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

پاکستان کی پہلی وکٹ صرف 8 رن کے مجموعی اسکور پر گری، جب صائم ایوب 10 گیندوں کا سامنا کرنے کے بعد بغیر کوئی رن بنائے اولی رابنسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

یہ وکٹ حاصل کرنے کے بعد اولی رابنسن نے ٹیسٹ کرکٹ میں وکٹوں کی سنچری مکمل کر لی ہے۔

قومی ٹیم کے دوسرے اوپنر اذان اویس بھی 20 گیندوں پر 9 رنز بنانے کے بعد محض 14 رنز کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہوگئے، جس کے بعد پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ تیزی سے بکھرتی چلی گئی۔

عبداللہ شفیق 16 گیندوں پر صرف 3 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ شان مسعود بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور 7 گیندوں پر 5 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوگئے۔

پاکستان کو پانچواں نقصان بابر اعظم کی صورت میں اٹھانا پڑا۔ بابر اعظم 18 گیندوں پر 7 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ جس کے بعد غازی غوری 4، محمد عمران 5 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

سعود شکیل انگلش بالرز کا ذمہ داری سے سامنا کرنے والے واحد بیٹر ٹھہرے، جنہوں نے ابتدائی سیشن میں مشکلات اور مسلسل وکٹیں گرنے کے باوجود محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کی اننگز کو سنبھالا تاہم کھانے کے وقفے کے فوراً بعد وہ بھی وکٹ کھو بیٹھے۔

سعود شکیل نے 47 گیندوں پر 43 رنز بنائے جس میں 7 چوکے بھی شامل تھے جب کہ ان سے قبل ڈیبیو کرنے والے کھلاڑی رضاء اللہ بھی 11 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

واضح رہے کہ انگلینڈ کو سیریز میں پہلے ہی دو صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے جہاں اس نے پہلے ٹیسٹ میں ایک اننگز اور 103 رنز جبکہ دوسرے میچ میں 194 رنز سے فتح حاصل کی تھی۔

بیٹنگ لائن کی مسلسل ناکامی کے بعد پاکستان نے آخری ٹیسٹ میچ کے لیے پلیئنگ الیون میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ اوپنر صائم ایوب، وکٹ کیپر بیٹر غازی غوری، آل راؤنڈر محمد عمران رندھاوا اور فاسٹ بولر رضاء اللہ کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

ٹیسٹ سیریز ہاتھ سے نکلنے کے بعد قومی ٹیم کا بنیادی ہدف اب خود کو وائٹ واش کی شرمندگی سے بچانا ہے۔

تئیس سالہ وکٹ کیپر بیٹر غازی غوری کا تعلق کراچی سے ہے۔ اس کے علاوہ انتیس سالہ آل راؤنڈر محمد عمران رندھاوا نے بھی ٹیسٹ ڈیبیو کیا ہے جو اٹھاون فرسٹ کلاس میچز کا تجربہ رکھتے ہیں اور بیٹنگ کے ساتھ ساتھ میڈیم پیس بالنگ کرتے ہوئے 110 وکٹیں بھی حاصل کر چکے ہیں۔

قومی ٹیم کا پلیئنگ الیون اسکواڈ بابر اعظم (کیپٹن)، اذان اویس، صائم ایوب، عبداللہ رفیق، شان مسعود، سعود شکیل، محمد غازی غوری، محمد عمران، رضا اللہ، محمد علی اور محمد عباس پر مشتمل ہے۔

میچ سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم ایک غیر معمولی صورت حال کی وجہ سے بھی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہی۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیم کے کھلاڑیوں اور دیگر آفیشلز کے موبائل فون اپنے پاس جمع کر لیے ہیں جو میچ کے اختتام تک بورڈ کی تحویل میں رہیں گے۔

اگرچہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ضوابط کے تحت ڈریسنگ روم اور محدود علاقوں میں مواصلاتی آلات کے استعمال پر پہلے ہی پابندی عائد ہوتی ہے، لیکن پوری سیریز کے دوران موبائل تحویل میں لینے کے اقدام نے بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

پی سی بی کی جانب سے اس فیصلے کی تاحال کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی، جبکہ ٹیم اور کوچنگ اسٹاف میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد شائقینِ کرکٹ اس معاملے پر بورڈ کے مؤقف کے منتظر ہیں۔

Related posts