بھارت میں مسلم شناخت مٹانے کی مبینہ منصوبہ بندی بے نقاب

بھارت میں مسلمانوں کی مذہبی شناخت اور تاریخی ورثے کو مبینہ طور پر مرحلہ وار ختم کرنے کی منصوبہ بندی کا انکشاف ہوا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بی جے پی حکومت کے دور میں مسلم مذہبی املاک اور تاریخی مقامات کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق متنازع وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کو مسلم شناخت کے خاتمے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ وقف قانون کی آڑ میں عدالتوں کے ذریعے مسلم مذہبی املاک کی مسماری اور قبضے کی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تجاوزات کے خلاف کارروائی کے نام پر مساجد، مزارات، درگاہوں، مدارس اور عیدگاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور گزشتہ 3 برس کے دوران 861 مسلم مذہبی مقامات منہدم کیے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان میں 60 مساجد، 563 مزارات، 226 مدارس اور 6 عیدگاہیں شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق وقف ایکٹ 2025 کے تحت مساجد اور دیگر مذہبی اداروں کی رجسٹریشن اور تصدیق کے اختیارات ضلعی حکام کو منتقل کردیئے گئے ہیں، جبکہ اوقاف بورڈز میں غیر مسلم نمائندوں کی تعیناتی سے مسلم برادری کے مؤثر کردار کو بھی محدود کردیا گیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 5 ستمبر 2026 کو سہارنپور کی 120 سال پرانی مسجد علی الصبح منہدم کردی گئی، جبکہ دہلی کے مہرولی میں 700 سالہ اخوندجی مسجد اور وارانسی کی 200 سال پرانی ازغیب شہید مسجد بھی منہدم کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک ہزار سال پرانی گنج شہیدہ مسجد کو بھی مسلم احتجاج کے باوجود انہدام کا نوٹس جاری کیا جاچکا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مسلم مذہبی عمارات کے خلاف کارروائیاں اتراکھنڈ، اترپردیش، دہلی، راجستھان، گجرات، مہاراشٹر، ہریانہ، آسام اور مدھیہ پردیش میں کی گئی ہیں، جبکہ رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں بالخصوص بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں جاری ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اتراکھنڈ میں تقریباً 572 مزارات کو تجاوزات کے خلاف کارروائی کی آڑ میں منہدم کیا گیا، جبکہ اترپردیش میں 35 مساجد، 225 مدارس، 25 مزارات اور 6 عیدگاہوں کو منہدم کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مہاراشٹر میں 5، گجرات میں 4، راجستھان میں 5 اور آسام میں 5 مساجد بھی مسمار کی گئیں، جبکہ آسام میں 2023 سے 2025 کے دوران 48 مسلم مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جماعت اسلامی ہند، جمعیت علمائے ہند اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مخالفت کے باوجود مسلم مخالف اقدامات میں کمی نہیں آئی، جبکہ کانگریس سمیت اہم اپوزیشن جماعتوں نے بھی مسلم مذہبی مقامات کے خلاف انہدامی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت میں تقریباً 872,328 وقف املاک موجود ہیں جو 3.82 ملین ایکڑ اراضی پر پھیلی ہوئی ہیں۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ان املاک سے وابستہ تعلیمی اور فلاحی سرگرمیاں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف مبینہ امتیازی اور انتقامی کارروائیاں معاشی پسماندگی، کم سیاسی نمائندگی اور سماجی عدم تحفظ میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔

سیاسی ماہرین کے مطابق مذہبی مقامات کے انہدام سے عبادت، مذہبی تعلیم، طلبہ کی رہائش، مقامی روزگار اور مسلم برادری کے سماجی تحفظ سے متعلق سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین بھی اقلیتوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کرنے والی انہدامی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

Related posts