نائن الیون کے 25 سال: قیادت کے خاتمے کے بعد ‘القاعدہ’ اب کس حال میں ہے؟

نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر مسافر طیاروں کے تصادم کو پچیس سال مکمل ہو چکے۔ اس عرصے کے دوران اسامہ بن لادن کی قائم کردہ تنظیم ’القاعدہ‘ کو ختم کرنے کی کئی کوششیں کی گئیں، لیکن یہ کالعدم تنظیم اب بھی مختلف اشکال میں فعال ہے۔

القاعدہ نے دنیا بھر میں متعدد ذیلی گروہوں کو جنم دیا اور جگہ جگہ حملوں کی ترغیب دی۔ گزشتہ ڈھائی دہائیوں میں القاعدہ کو شدید ترین عسکری اور انتظامی دھچکے پہنچے، جن میں 2011 میں امریکی فورسز کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور داعش جیسے سخت گیر حریف کا ابھرنا شامل ہے، لیکن عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم آج بھی دنیا کے کئی خطوں، بالخصوص افریقہ میں مسلح شدت پسندوں کے لیے ایک اہم نظریاتی سہارے اور تحریک کا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔

القاعدہ کا آغاز 1980 کی دہائی کے آخر میں اسامہ بن لادن کی قیادت میں ایک بین الاقوامی جہادی نیٹ ورک کے طور پر ہوا تھا، جو افغان جنگ کے بعد امریکی مفادات اور امریکی اتحاد کے خلاف ایک بڑی طاقت بن کر ابھری۔

 امریکا نے القاعدہ کے رہنماؤں کے سروں پر لاکھوں ڈالرز کا انعام رکھا تھا
امریکا نے القاعدہ کے رہنماؤں کے سروں پر لاکھوں ڈالرز کا انعام رکھا تھا

نائن الیون کے بعد اکتوبر 2001 میں امریکا نے افغانستان پر حملہ کر کے طالبان حکومت کا تختہ الٹا اور القاعدہ کو اس کے اہم مرکز سے محروم کر دیا۔ اس حملے کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کو 2003 میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا، جنہوں نے 2007 کی ایک ملٹری سماعت کے دوران اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے نائن الیون حملے کی مکمل منصوبہ بندی کی تھی۔

خالد شیخ محمد گوانتانامو بے میں قید ہیں اور اب طویل قانونی تعطل کے بعد ملٹری ٹربیونل کے سامنے ان کا ٹرائل طے پایا ہے۔

 خالد شیخ محمد کی امریکی قید میں لی گئی تصویر
خالد شیخ محمد کی امریکی قید میں لی گئی تصویر

اسامہ بن لادن کے بعد تنظیم کی کمان سنبھالنے والے ایمن الظواہری کو 2022 میں کابل میں ایک امریکی ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت مصری عسکریت پسند سیف العدل کو القاعدہ کا بالواسطہ سربراہ سمجھا جاتا ہے۔

قیادت کے بکھرنے کے باوجود القاعدہ کا اثر و رسوخ مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا میں تیزی سے پھیلا۔ تنظیم کے ذیلی گروہوں نے 2002 میں بالی، 2004 میں میڈرڈ اور 2005 میں لندن میں بڑے خونریز حملے کیے۔

برطانیہ کے تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے سینئر ریسرچ فیلو انتونیو گیوسٹوزی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگرچہ افغانستان پر حملے کے بعد القاعدہ کو بھاری جانی نقصان اور بے دخلی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے بعد کے سالوں میں اس کے اثر و رسوخ میں بے پناہ اضافہ ہوا اور 2013 میں اس کا عروج اس وقت دیکھنے کو ملا جب اس کا عراقی دھڑا الگ ہو کر داعش بن گیا۔

2014 میں داعش کے ساتھ ہونے والے تصادم اور 2016 میں شام کی جبهۃ النصرہ کی علیحدگی کے بعد القاعدہ کے نیٹ ورک کو بڑا جھٹکا لگا۔ جبهۃ النصرہ کے قائد احمد الشرع، جنہیں پہلے ابو محمد الجولانی کے نام سے جانا جاتا تھا، انہوں نے بعد میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔

 احمد الشرع القاعدہ کی قیادت سنبھالنے کے دوران (بائیں) اور شام کی صدارت سنبھالنے کے بعد (دائیں)
احمد الشرع القاعدہ کی قیادت سنبھالنے کے دوران (بائیں) اور شام کی صدارت سنبھالنے کے بعد (دائیں)

آج کے دور میں القاعدہ سب سے زیادہ افریقہ کے ساحلی خطے اور صومالیہ میں متحرک ہے، جہاں الشباب اور دیگر ذیلی گروہ وسیع علاقوں پر اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ تنظیم کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کو بھی نظریاتی رہنمائی اور تعاون فراہم کر رہی ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں بھی طالبان حکومت کے تحت اسے سہولت کاری حاصل ہے۔

لندن تھنک ٹینک کے ماہر انتونیو گیوسٹوزی کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ القاعدہ اپنے عروج کا دور گزار چکی ہے لیکن وہ اب بھی غیر معمولی طور پر اثر انداز ہے، اور اب یہ تنظیم کسی ایک مخصوص شخصیت پر منحصر رہنے کے بجائے گمنام کارکنوں کے نیٹ ورک پر چل رہی ہے جنہیں نشانہ بنانا اور پہچاننا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔

Related posts