حوثیوں کا باب المندب پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ

یمن کی انصار اللہ تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

سینیئر اہلکار محمد البخیتی کے مطابق حوثیوں نے مغربی صوبے تعز میں اہم علاقوں اور فوجی اڈوں الخالد اور جبل النصر پر قبضہ کرلیا ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق یمن کی حوثی تحریک (انصار اللہ) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے آبنائے باب المندب پر نظر رکھنے والے اہم فوجی مرکز العمری گارژن کا بھی مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

حوثیوں کے مطابق ان کی بحری فورسز نے بحیرۂ احمر میں واقع اہم جزیرہ زقر پر بھی مکمل کنٹرول قائم کر لیا ہے اور جزیرے کو مخالف فورسز سے خالی کرا لیا گیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق حوثی جنگجو بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں واقع المخا بندرگاہ کے داخلی حصوں تک بھی پہنچ گئے ہیں، جبکہ المخا ایئرپورٹ پر بھی قبضہ کرلیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی پیش قدمی کے دوران مزاحمت کرنے والے افراد نے بڑی تعداد میں ہتھیار ڈال دیے۔

باب المندب عالمی سطح پر اہم سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے تیل، گیس اور غذائی اجناس سمیت مختلف اشیا کی ترسیل ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آگئی ہے اور حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے اہم ساحلی شہر المخا پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد ریاض نے حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں تیز کردیں۔

برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے تعز صوبے میں المخا کے علاوہ حیس شہر اور خطے کے سب سے بڑے فوجی اڈے خالد بن ولید کیمپ پر بھی کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔

حوثیوں کے مطابق ان کی فورسز نے 6 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ علاقے پر پیش قدمی کی ہے۔

المخا بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع اہم بندرگاہی شہر ہے اور آبنائے باب المندب کے قریب اس کی جغرافیائی حیثیت اسے یمن کی جاری جنگ میں غیر معمولی تزویراتی اہمیت دیتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ساحلی پٹی پر حوثیوں کا بڑھتا ہوا کنٹرول بحیرۂ احمر میں عالمی بحری آمدورفت اور توانائی کی ترسیل کے لیے خطرات میں اضافہ کرسکتا ہے۔

’اے ایف پی‘ کے مطابق ایک عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ حوثیوں نے جنوبی بحیرۂ احمر میں واقع ذُقر جزیرے پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جزیرے پر راکٹ حملوں کے بعد کشتیوں کے ذریعے حوثی جنگجو اتارے گئے اور زمینی کارروائی کی گئی۔

Related posts