برمنگھم ٹیسٹ: انگلینڈ 453 رنز پر آؤٹ، پاکستان کا دوسری اننگز میں بھی مایوس کُن آغاز
انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے تیسرے اور آخری میچ میں پاکستان وائٹ واش کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ ایجبسٹن میں کھیلے جا رہے میچ کے دوسرے روز بھی پاکستانی ٹیم مشکلات کے بھنور سے نہ نکل سکی۔ پاکستان کے 133 رنز کے تعاقب میں انگلش ٹیم 453 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی۔ دوسرے روز کے اختتام پر پاکستان نے دو وکٹوں کے نقصان پر 46 رنز بنائے ہیں اور اسے اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے مزید 268 رنز درکار ہیں۔
برمنگھم کے ایجبسٹن اسٹیڈیم میں تیسرے ٹیسٹ کے دوسرے روز انگلینڈ نے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔
پہلی اننگز میں محض 133 رنز پر ڈھیر ہونے والی پاکستانی ٹیم کا دوسری اننگز میں آغاز پہلے سے زیادہ مایوس کن رہا۔ ابتدائی دونوں وکٹیں صفر کے اسکور پر گریں۔
پہلی اننگ میں صفر پر آؤٹ ہونے والے صائم ایوب پھر صفر پر آؤٹ ہوئے۔ عبداللہ شفیق صفر پر آؤٹ ہونے والے دوسرے کھلاڑی تھے جنہوں نے پہلی اننگ میں محض 3 رنز اسکور کیے تھے۔
اذان اویس اور شان مسعود نے صورت حال کو مزید بگڑنے سے بچایا اور اسکور کو 46 تک پہنچایا۔ اس دوران بارش کے باعث کھیل روکنا پڑا جو دوبارہ شروع نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ تین میچوں کی سیریز میں انگلینڈ کو پہلے ہی 0-2 کی برتری حاصل ہے اور اب پاکستانی ٹیم کے سر پر سیریز میں کلین سویپ کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔
انگلینڈ نے جمعرات کے روز کھیل کا آغاز 4 وکٹوں پر 156 رنز سے کیا تھا۔ ہیری بروک اور ڈین لارنس نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 64 رنز کی شراکت قائم کی اور تیز رفتاری سے رنز بناتے رہے۔
ٹیم کا مجموعی اسکور 229 پر پہنچانے کے بعد ہیری بروک 75 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوگئے۔ ان کی اننگز میں 6 چوکے شامل تھے۔ ہیری بروک کے بعد جیمی اسمتھ اور ڈین لارنس نے مزید 64 رنز کی شراکت داری قائم کی، جس سے انگلینڈ کی پوزیشن مضبوط ہوگئی۔
ڈین لارنس نے 65 رنز کی اننگز کھیلی۔ مڈل آرڈر میں جیمی اسمتھ نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 69 رنز بنائے۔ انگلینڈ کے لوئر آرڈر بیٹرز نے بھی پاکستانی باؤلرز کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے تیزی سے رنز کا اضافہ کیا، جس میں اولی رابنسن کے 47 گیندوں پر 50 اور جوفرا آرچر کے 32 رنز نمایاں تھے، جس کے بعد پوری انگلش ٹیم 453 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
پاکستان کی جانب سے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے نوجوان فاسٹ بالر رضاء اللہ کامیاب ترین بالر رہے جنہوں نے 148 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں۔ ڈیبیو کرنے والے دوسرے آل راؤنڈر محمد عمران نے بھی ڈین لارنس اور گس اٹکنسن کو آؤٹ کر کے 2 وکٹیں اپنے نام کیں۔
اس سے قبل لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں 194 رنز کی بدترین شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور اسسٹنٹ کوچ عمر گل کو عہدوں سے ہٹا دیا تھا اور برمنگھم ٹیسٹ کے لیے ٹیم میں چار تبدیلیاں کی گئی تھیں جو اب تک کارآمد ثابت نہیں ہوئی ہیں۔
دوسری جانب جو روٹ کی دوسری مدت میں کپتانی سنبھالنا انگلینڈ کے لیے انتہائی شاندار تجربہ ثابت ہو رہا ہے۔ محض چند ہفتے قبل نیوزی لینڈ سے سیریز ہارنے اور ہیڈ کوچ برینڈن میکولم اور کپتان بین اسٹوکس کے عہدے چھوڑنے کے بعد انگلش ٹیم بحران کا شکار نظر آ رہی تھی، تاہم اس سیریز میں انگلش ٹیم تمام شعبوں میں بھرپور کارکردگی کا مظاہرہ کرتی نظر آئی ہے۔