بھارت میں برکس اجلاس: ‘خلیجی تنازع سب سے مرکزی اختلافی نقطہ ثابت ہو گا’
چینی صدر شی جن پنگ ’برکس‘ تنظیم کے دو روزہ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی پہنچ گئے ہیں تاہم، عالمی تجارت، توانائی کے بحران اور مشرقِ وسطیٰ و یوکرین میں جاری جنگوں نے عالمی منظر نامے پر اس 11 رکنی اجلاس کی اہمیت کو ختم کردیا ہے۔
چینی صدر کی 2019 کے بعد بھارت آمد کو دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ دورہ 2020 میں تبتی سرحد پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان ہونے والے پرتشدد عسکری تصادم کے چھ سال بعد ہو رہا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ آ گیا تھا۔
چینی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ چین مواصلات کو مضبوط بنانے، تعاون بڑھانے اور اختلافات کو درست طریقے سے نمٹانے کے لیے بھارت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
ملبورن یونیورسٹی کے چین بھارت امور کے ماہر پردیپ تانیجہ نے اس حوالے سے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک سرحدی معاملے پر جلد اور اہم نتائج کی امید کر رہے ہیں، لیکن آپ ایک طرف سرحد پر فوجیں تعینات رکھ کر دوسری طرف عوامی اور معاشی تعلقات کو معمول پر لانے کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔
اجلاس کے موقع پر سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں، جہاں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی اور اسرائیلی عسکری کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر بڑھتا ہوا دباؤ اب انتہائی تنقیدی اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر کے سربراہان اور نمائندے بھی اس اجلاس میں شریک ہیں۔
آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن نئی دہلی کے ماہر ہرش وی پنت نے اجلاس کی حساس نوعیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس بار برکس اجلاس کے دوران خلیجی تنازع سب سے مرکزی اختلافی نقطہ ثابت ہو گا، اور جسے گزشتہ سال تک تنظیم کی توسیع کی کامیابی سمجھا جا رہا تھا، وہ آج برکس کے لیے ایک بڑی رکاوٹ اور چیلنج دکھائی دے رہا ہے۔
بھارت، جو امریکا، روس اور ایران کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے روسی تیل پر انحصار بڑھا رہا ہے، جبکہ اجلاس میں 11 ممالک کے مابین مختلف عالمی تنازعات پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔