افغانستان پھر القاعدہ کا مرکز بننے لگا، امریکی اخبار کا 14 صوبوں میں موجودگی کا دعویٰ
امریکی اخبار دی واشنٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کی حکومت کے دوبارہ قیام اور 2021 میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد القاعدہ نے ایک بار پھر ملک میں اپنے تربیتی مراکز قائم کرنا شروع کر دیے ہیں۔ امریکی اور مغربی انٹیلی جنس حکام کے ساتھ اقوام متحدہ کی دہشت گرد گروہوں پر نظر رکھنے والی ٹیم کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ 3 برس کے دوران القاعدہ اور اس سے وابستہ گروہوں نے افغانستان میں کم از کم 8 تربیتی مقامات قائم کیے ہیں۔
واشنٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے دوبارہ ایسا ماحول فراہم کیے جانے سے القاعدہ کو افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں اور تربیتی کیمپوں کے ذریعے اپنی سرگرمیاں مضبوط کرنے کا موقع ملا ہے۔
رپورٹس کے مطابق القاعدہ کے علاوہ داعش سے وابستہ گروہوں سمیت دیگر مسلح تنظیموں نے بھی افغانستان میں نئے تربیتی مراکز قائم کیے ہیں۔ ان گروہوں کی موجودگی افغانستان کے 34 میں سے کم از کم 14 صوبوں میں سامنے آئی ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال 11 ستمبر 2001 کے حملوں سے پہلے کے دور سے مختلف ہے۔ اس وقت القاعدہ کی توجہ امریکا اور اس کے اتحادیوں پر بڑے حملوں کی منصوبہ بندی پر تھی، جبکہ اب افغانستان میں موجود زیادہ تر شدت پسند گروہ مقامی اور علاقائی تنازعات پر توجہ دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق طالبان بھی اس بات سے محتاط ہیں کہ افغانستان کی سرزمین سے ایسی سرگرمیاں دوبارہ نہ ہوں جن کے نتیجے میں عالمی طاقتوں کی توجہ طالبان حکومت کی جانب مبذول ہو۔
جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے انسداد دہشت گردی کے ماہر بروس ہاف مین نے کہا کہ وہ 11 ستمبر سے پہلے کے منصوبے کے مطابق دور کے دشمن کو نشانہ بنانے پر عمل نہیں کر رہے، لیکن میرا خیال ہے کہ وہ مقامی اور علاقائی کامیابیوں کے ذریعے دوبارہ اپنی طاقت اور رفتار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ہمیں بھولے نہیں ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں قائم نئے کیمپوں میں جنگجوؤں کو ہتھیاروں، دھماکا خیز مواد اور گوریلا جنگ کی تربیت دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بعض مقامات پر انکرپشن، مصنوعی ذہانت، ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت کے شواہد بھی ملے ہیں۔
اقوام متحدہ کی دہشت گرد گروہوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے رابطہ کار کولن اسمتھ کے مطابق افغانستان میں القاعدہ کے بنیادی گروہ کے جنگجوؤں کی تعداد ممکنہ طور پر 100 یا اس سے بھی کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ اب خود بڑے آپریشن کرنے کے بجائے دوسرے گروہوں کو مشاورت، تربیت اور تکنیکی مدد فراہم کر رہی ہے۔
کولن اسمتھ نے کہا کہ ہم نے القاعدہ کو دوسرے گروہوں کے لیے ایک مشاورتی سروس کے طور پر کام کرتے دیکھا ہے، جہاں وہ خفیہ کارروائیوں اور معلومات کی سیکیورٹی جیسے معاملات میں مشورہ اور تربیت فراہم کرتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق القاعدہ کی جانب سے مدد حاصل کرنے والے بڑے گروہوں میں تحریک طالبان پاکستان، یعنی ٹی ٹی پی بھی شامل ہے۔ یہ تنظیم پاکستان کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں اسلامی ریاست قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کی 2024 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ افغانستان کے صوبہ کنڑ میں القاعدہ کے جنگجو ٹی ٹی پی کے لیے خودکش حملہ آوروں کی تربیت کر رہے تھے۔ کولن اسمتھ کے مطابق افغانستان میں ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد 7 ہزار تک ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق ٹی ٹی پی نے افغانستان کے کم از کم 4 صوبوں میں تربیتی کیمپ قائم کیے ہیں، جہاں القاعدہ اور طالبان کی شمولیت بھی بتائی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے فوجی ٹھکانوں اور دیگر اہداف پر سرحد پار سے سیکڑوں حملے کر چکی ہے۔
دوسری جانب القاعدہ کی بڑی حریف داعش نے بھی افغانستان میں اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ داعش خراسان، جسے آئی ایس آئی ایس-کے بھی کہا جاتا ہے، نے تقریباً 2 ہزار افراد کو بھرتی کیا ہے اور شمالی افغانستان کو وسطی ایشیا میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور تربیت کے لیے اپنا اہم مرکز بنایا ہے۔
القاعدہ اور داعش ایک دوسرے کی سخت حریف ہیں اور دونوں شدت پسند گروہوں کے درمیان اثر و رسوخ اور جنگجوؤں کی بھرتی کے معاملے پر مقابلہ جاری رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ دور میں دونوں گروہوں کی توجہ زیادہ تر افغانستان اور اس کے پڑوسی ممالک سے افراد کو بھرتی کرنے پر ہے، جبکہ 1990 کی دہائی میں القاعدہ سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک سے بڑی تعداد میں غیر ملکی جنگجو افغانستان لاتی تھی۔ 11 ستمبر کے حملوں میں شامل 19 افراد میں سے 15 کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔
جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی دہشت گردی کی ماہر سارہ ہارموش نے کہا کہ القاعدہ کے میڈیا مواد سے جو کچھ میں نے دیکھا ہے، اس سے لگتا ہے کہ وہ اس وقت غیر ملکی جنگجوؤں کی تلاش میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ اپنی صلاحیتیں دوبارہ بنانے کی کوشش کے دوران عالمی توجہ نہیں چاہتے۔
القاعدہ کے دوبارہ افغانستان میں قدم جمانے کی کوششوں نے اس لیے بھی تشویش پیدا کی ہے کیونکہ 1990 کی دہائی میں افغانستان میں اس کے تربیتی کیمپ 11 ستمبر کے حملوں کی تیاری میں اہم کردار ادا کر چکے تھے۔
امریکی 11 ستمبر کمیشن کے مطابق حملوں کے مرکزی منصوبہ ساز خالد شیخ محمد نے 1996 میں افغانستان کے تورا بورا میں القاعدہ کے ایک مرکز میں ہائی جیک کیے گئے طیاروں کو امریکی عمارتوں سے ٹکرانے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ بعد میں اسامہ بن لادن نے قندھار کے قریب ایک مقام پر اس منصوبے کی منظوری دی۔
11 ستمبر کے حملوں میں استعمال ہونے والی چار پروازوں کو ہائی جیک کرنے والے تمام 19 افراد نے افغانستان میں القاعدہ کے تربیتی کیمپوں یا محفوظ ٹھکانوں میں وقت گزارا تھا۔
حکام نے حال ہی میں یہ دعوے بھی دیکھے کہ القاعدہ قندھار ایئرپورٹ کے قریب واقع ترناک فارمز نامی بڑے کمپاؤنڈ میں دوبارہ سرگرمیاں شروع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے میں وہاں دوبارہ سرگرمی کے واضح شواہد نہیں ملے۔
امریکی اور دیگر سیکیورٹی حکام کے مطابق 2021 میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان میں انٹیلی جنس اور نگرانی کی صلاحیتیں کم ہوئی ہیں، جس کے باعث نئے تربیتی کیمپوں پر نظر رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
اس کے باوجود 2022 میں کابل میں ایک امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت سے ظاہر ہوا کہ امریکی انٹیلی جنس اور فضائی کارروائی کی کچھ صلاحیتیں اب بھی موجود ہیں۔
القاعدہ کی قیادت اب مصری شہری سیف العدل کے پاس ہے، جو 1988 میں افغانستان پہنچنے کے بعد کئی برس تک وہاں تربیتی کیمپ چلانے میں مدد کرتا رہا۔ تاہم حکام کا خیال ہے کہ سیف العدل اب بھی ایران میں روپوش ہے۔
ماہرین کے مطابق 11 ستمبر کے بعد دنیا بھر میں سخت کیے گئے سفری ریکارڈ، نگرانی اور دیگر سکیورٹی اقدامات کے باعث افغانستان کے تربیتی کیمپوں میں بیرون ملک سے آنے والے افراد پر نظر رکھنا آسان ہوگا۔ اسی وجہ سے القاعدہ اور داعش اب آن لائن بھرتی پر بھی توجہ دے رہے ہیں اور مغربی ممالک میں موجود اپنے حامیوں کو مقامی طور پر اکیلے حملے کرنے پر اکسا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق ایسے کئی منصوبوں کو ناکام بنایا جا چکا ہے۔ حالیہ ایک واقعے میں نیویارک کے شہر البانی میں 35 سالہ خاتون کو گزشتہ ماہ گرفتار کیا گیا اور اس پر ریاستی دارالحکومت پر بم حملے کی ”داعش سے متاثرہ“ منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا گیا۔