میر رضا کے سیمپلز پہنچانے میں تاخیر: ڈاکٹر سمیعہ کے جوڈیشل کمیشن میں اہم حقائق

کراچی میں میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کا ساتواں اجلاس ہوا، جس میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کا بیان قلمبند کیا گیا۔ ڈاکٹر سمعیہ سید اور ایڈووکیٹ جبران ناصر سندھ ہائیکورٹ پہنچے، جہاں کمیشن نے قبرکشائی، سیمپلز اور پوسٹ مارٹم سے متعلق امور پر ڈاکٹر سمعیہ سے سوالات کیے۔

سماعت کے دوران ڈاکٹر سمعیہ سید نے بتایا کہ انہیں معلوم نہیں کہ سیمپلز روانہ کرنے میں تاخیر کی گئی یا نہیں، تاہم اگر سیمپلز دیر سے پہنچائے جائیں تو نتائج مختلف ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق دیر سے پہنچنے والے سیمپلز میں مختلف اقسام کے پوائزن بڑھ جاتے ہیں اور تاخیر کی وجہ سے رپورٹ منفی آنے کا امکان بھی ہوتا ہے۔

جسٹس عمر سیال نے ڈاکٹر سمعیہ سے استفسار کیا کہ انہوں نے 3 اگست کو قبرکشائی کی درخواست دی تھی؟ اس پر ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ انہوں نے 2 اگست کو ایس ایس پی زبیر نذیر سے بات کی تھی اور انہیں کوتاہیوں کے بعد قبرکشائی کی ضرورت سے آگاہ کیا تھا۔

ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق ایس ایس پی سمیع نے کہا تھا کہ قبرکشائی کے لیے اہلخانہ سے بات کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میڈیکل بورڈ کو قبرکشائی کا حکم دے سکتی ہے جبکہ سیکریٹری صحت کو بھی اس حوالے سے ہدایت دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ 21 ایسٹ نے سیکریٹری صحت اور دیگر متعلقہ افراد کو خط بھی تحریر کیا تھا۔

پولیس سرجن نے بتایا کہ انہوں نے میڈیکل بورڈ کے لیے تجربہ کار افراد کا انتخاب کیا تھا اور قبرکشائی کے دوران 263 تصاویر بنائی گئی تھیں۔ ان کے مطابق بورڈ میں شامل افراد تکنیکی لحاظ سے اچھا تجربہ رکھتے تھے۔ ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ سندھ میڈیکولیگل ایکٹ 2024 تاحال نافذالعمل نہیں ہوا۔

قبرکشائی کے لیے میڈیکل بورڈ میں تبدیلی سے متعلق ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ 6 اگست کو رات 11 بج کر 45 منٹ پر انہیں معلوم ہوا کہ بورڈ تبدیل کردیا گیا ہے۔ نئے بورڈ میں ان کے علاوہ تمام افراد تبدیل کردیئے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں لگا کہ اہلخانہ دوسرے بورڈ کے ساتھ قبرکشائی کے لیے خوش نہیں تھے۔

ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق 7 اگست کی صبح اے آئی جی نے بتایا کہ ان کی مرضی کے افراد بورڈ میں شامل ہوں گے۔ دونوں بورڈز کے ارکان وہاں پہنچ گئے تھے، تاہم مجسٹریٹ نے قبرکشائی مؤخر کردی۔ ان کے بقول اس روز لوگوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے تھے، جبکہ جمعہ کی شام انہیں واٹس ایپ پر قبرکشائی مؤخر ہونے سے آگاہ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ 7 اگست کو رات 8 بجے سیکریٹری صحت کا آرڈر ملا، جس میں ان کے منتخب کردہ افراد کو بورڈ میں شامل کیا گیا تھا اور انہیں قبرکشائی کرنے کے حوالے سے لیٹر بھی موصول ہوا۔

دورانِ سماعت ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ ڈپٹی سیکریٹری نے انہیں زبانی طور پر بتایا تھا کہ انہیں بورڈ سے الگ ہوجانا چاہیے، تاہم 8 اگست کو منتخب کیے گئے بورڈ نے ہی قبرکشائی میں حصہ لیا۔

ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ قبرکشائی کے دوران تفتیشی افسر شبیر لغاری بھی موجود تھے جبکہ اہلخانہ کے علاوہ کسی کو موقع پر آنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

سماعت کے دوران جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ کیا قبرکشائی کے دوران ہونے والی کارروائی کے بارے میں بتایا جاسکتا ہے؟ اس پر ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ وہ اس حوالے سے سافٹ کاپی ساتھ لائی ہیں اور کمیشن کو دکھا سکتی ہیں۔ جسٹس عمر سیال نے کہا کہ یہ تو اچھا ہوجائے گا اور ساتھ ہی کہا کہ اگر کوئی باہر جانا چاہتا ہے تو جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ قبرکشائی کی پوری جگہ کو کور کردیا گیا تھا جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ قبرکشائی کے دوران زخمی ہوگئے تھے۔

میر رضا کی لاش کے معائنے سے متعلق ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ سر پر زخم واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں اور سر کے پچھلے حصے میں زخموں کے واضح نشانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مردے بہت کچھ بتا رہے ہوتے ہیں، ہمیں صرف انہیں سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ان کے مطابق لاش کی چھٹی نمبر کی پسلی ٹوٹی ہوئی تھی اور پسلی کے رخ سے واضح ہوتا ہے کہ گولی پیچھے کی طرف سے لگی تھی۔ ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ دل کی طرف آنے والی گولی کا نشان بھی اس بات کو واضح کرتا ہے کہ گولی پیچھے سے لگی تھی۔

کرائم سین سے متعلق سوالات پر ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ یہ سوال بھی اہم ہے کہ وہاں کتنا خون موجود تھا۔ ان کے مطابق کمر کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ باڈی ڈی کمپوزیشن پر نہیں گئی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لاش پر موجود ایسڈ کے نشانات باڈی ایسڈ کے نہیں تھے۔

Related posts