آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے مذاکرات ملتوی؛ پیٹرولیم بحران کی نئی لہر
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور تیل کی نقل و حمل کے اہم راستوں پر حملوں کے بعد عمان میں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ہونے والا اہم سفارتی اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔
مسقط میں ہونے والے اس اجلاس میں آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کو محفوظ بنانے اور ممکنہ معاہدوں پر بات چیت ہونا تھی، تاہم عمان کے وزیرِ خارجہ سید بدر البوسعیدی نے تصدیق کی ہے کہ یہ اجلاس تمام فریقین میں اتفاقِ رائے قائم کرنے کی خاطر فی الحال ملتوی کیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے نے وزارتِ خارجہ کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اجلاس بعض علاقائی ممالک کی درخواست پر تہران اور مسقط کی باہمی مشاورت سے ملتوی کیا گیا اور جلد ہی نئی تاریخ طے کی جائے گی۔
اس سفارتی پیش رفت میں تعطل ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب خطے کے اہم ترین تیل کے راستے شدید خطرات کی زد میں ہیں۔ سعودی عرب نے اپنی بارہ سو کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو ڈرون حملوں کے بعد مسلسل بند رکھا ہوا ہے، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں سو ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں اور امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں چھ ڈالر فی گیلن کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق اگر یہ پائپ لائن جلد بحال نہ ہوئی تو عالمی مارکیٹ کو چار فیصد تک تیل کی فراہمی معطل ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک امریکا تہران کے مطالبات پورے نہیں کرتا، ایران آبنائے ہرمز کا راستہ نہیں کھولے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ انہیں توقع ہے ایران کے ساتھ جاری جنگ رواں سال کے آخر تک ختم ہو جائے گی جس کے بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ جائیں گی، تاہم امریکی آپریشن کے مقاصد ابھی حاصل نہیں ہو سکے۔
اس دوران سعودی عرب کے جنوبی خطے جازان میں یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے کی گئی بمباری میں مساجد اور گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر سے حوثیوں کے خلاف عسکری امداد کی درخواست کی ہے، جبکہ صدر ٹرمپ کے مطابق حوثیوں نے بھی واشنگٹن سے رابطہ کر کے یمن کی جنگ سے دور رہنے کا کہا ہے۔
اس پیچیدہ صورتِ حال نے خلیجی ممالک اور عالمی توانائی کی منڈیوں کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔