حوثیوں کی بڑھتی طاقت: سعودی عرب کے پاس جواب دینے کے آپشنز محدود کیوں؟
ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی یمن میں تیز رفتار پیش قدمی اور سعودی عرب پر مسلسل حملوں نے خلیجی ریاست کو ایک ایسے دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں سے نکلنے کے تمام راستے انتہائی دشوار اور کٹھن دکھائی دیتے ہیں۔ واشنگٹن میں مقیم خطے کے دفاعی امور کے ماہر محمد الباشا کا اس صورتِ حال پر کہنا ہے کہ اس وقت تمام اشارے سعودی عرب کی جانب سے ایک بڑے جوابی عسکری اقدام کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اور اس بات کا امکان دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔
محمد الباشا نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر سعودی عرب کے پاس زیادہ متبادل راستے موجود نہیں ہیں کیونکہ ان پر حوثیوں کے علاوہ عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے بھی حملے ہو رہے ہیں اور ایسی حالت میں چپ رہنا آسان نہیں ہوتا۔
حالیہ دنوں میں حوثی باغیوں نے بحرِ احمر کے دہانے پر واقع انتہائی اہم پیرم جزیرے اور موخا کی ساحلی بندرگاہ پر قبضہ کر کے باب المندب کی اہم سمندری گزرگاہ کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس پیش قدمی کے فوراً بعد سعودی عرب کی اہم ترین ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر بھی ڈرون حملے کیے گئے جس کے بعد اسے عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔ اگرچہ اس حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کا اشارہ تہران کی طرف کیا۔
اس سے قبل سعودی حکام نے بھی تشویش ظاہر کی تھی کہ وہ عراق اور یمنی باغیوں کی جانب سے مل کر کیے جانے والے منظم حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

دیکھا جائے تو ایک طرف بے پناہ وسائل اور جدید ترین فوج رکھنے والا طاقتور سعودی عرب ہے اور دوسری طرف غربت کے شکار یمن کا ایک باغی گروپ، لیکن میدانِ جنگ میں حوثیوں کو پیچھے دھکیلنا انتہائی مشکل ثابت ہوا ہے۔
حوثیوں کا مطالبہ یہ ہے کہ ان کے زیرِ اثر شمالی یمن پر سعودی عرب کی جانب سے قائم معاشی اور سفری پابندیاں ختم کی جائیں۔ حوثی خبر رساں ایجنسی ’صبا‘ کے سربراہ نصر الدین عامر کا کہنا ہے کہ حوثی اس وقت تک سعودی عرب پر دباؤ بڑھاتے رہیں گے جب تک وہ ”سعودی دشمن کی جانب سے بارہ سال سے مسلط کردہ ظالمانہ محاصرہ نہیں توڑ دیتے“۔
سعودی عرب کے سامنے اس وقت سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اگر وہ کھلی جنگ میں اترتا ہے تو اس کے شدید اثرات مرتب ہوں گے۔

یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز کی ماہر سنزیا بیانکو نے اس حوالے سے سی این این کو بتایا کہ سعودی عرب کے پاس اس تنازع میں اختیارات محدود ہیں۔
سنزیا بیونکو کا کہنا ہے کہ اگر ریاض مکمل جنگ کا راستہ چنتا ہے تو یہ ایک نہ ختم ہونے والے تصادم میں بدل سکتا ہے جس سے پورے خطے کی تباہی کا خطرہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسی حالت میں اس جنگ کو محض یمن کا مقامی مسئلہ بنا کر رکھنا ناممکن ہو جائے گا اور سعودی عرب براہِ راست امریکا اور ایران کی جاری وسیع تر جنگ کا حصہ بن جائے گا۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ اس وقت یمن کے اندر اپنے عسکری وسائل جھونکنے سے گریز کر رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ حوثیوں نے ان کی انتظامیہ سے رابطہ کر کے درخواست کی ہے کہ امریکا اس یمنی جنگ میں براہِ راست شامل نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ حوثی زیادہ تر بحری جہازوں کو گزرنے دے رہے ہیں اور صرف ایک ملک سے انہیں مسئلہ ہے جسے وہ حل کر لیں گے۔
رپورٹ کے مطابق، سعودی ولی عہد نے امریکا سے فضائی حملوں کی درخواست کی تھی جسے ٹرمپ نے رد کر دیا، تاہم امریکا نے انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی کے لیے کچھ عسکری مشیر روانہ کیے ہیں۔
تاہم، کنگز کالج لندن سے وابستہ سابق سعودی حکومتی مشیر نواف عبید کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے کبھی امریکی فضائی حملوں کی مانگ نہیں کی تھی بلکہ صرف انٹیلی جنس تعاون مانگا تھا جو ابھی تک محدود رہا ہے۔
اس تنازع کا سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنے کا راستہ بھی تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سعودی عرب حوثیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا معاہدہ کرتا ہے تو اسے حوثیوں کی تمام شرائط قبول کرنا ہوں گی، جسے ماہرین مکمل ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔
سعودی تجزیہ کار سلمان الانصاری نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یمنی حکومت کی فورسز نے پہلے ہی جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور آنے والے دنوں میں اس میں شدت آئے گی۔
لیکن ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ سعودی عرب عالمی برادری کی ٹھوس اور مسلسل حمایت کے بغیر کسی بڑی اور طویل جنگ کا آغاز نہیں کرے گا۔
اس تمام تر صورتِ حال نے سعودی عرب کو ایک انتہائی مشکل اور حساس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔