ایران امریکا سے معاہدہ کرنے کے لیے مسلسل رابطے کر رہا ہے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں نومبر میں ہونے والے ’مِڈٹرم الیکشن‘ کے بعد ایران جنگ کے خاتمے کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ ختم ہوتے ہی عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں گی۔ آئرلینڈ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے یوکرین جنگ، آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) اور امریکی معاشی پالیسیوں پر بھی گفتگو کی۔

آئرلینڈ کے علاقے ڈون بیگ میں واقع اپنے گالف ریزورٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکا سے معاہدہ کرنے کے مسلسل رابطے کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ نومبر کے ’مڈٹرم الیکشن‘ کے فوراً بعد یا شاید اس سے پہلے قبل ایران جنگ ختم ہوتی دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتیں تیزی سے گریں گی۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ ایران کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ نہیں کریں گے جو مناسب نہ ہو۔

آبنائے ہرمز کے مستقبل کے حوالے سے خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان پیر کو ہونے والے متوقع مذاکرات پر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اہم سمندری گزرگاہ پر ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت کرنا یا نہ کرنا، ان ممالک کا اپنا فیصلہ ہے اور انہیں اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

روس-یوکرین جنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی پر واضح کیا ہے کہ وہ روس کی تیل اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کریں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا انہوں نے صدر زیلنسکی پر واضح کیا ہے کہ اگر وہ روس پر حملے کرنا ہی چاہتے ہیں تو بہت سے دیگر اہداف موجود ہیں، انہیں روس میں ڈیزل اور فیول کی تنصیبات پر حملوں کے سلسلے کو روکنا ہوگا۔

آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبے کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ بعض طاقتیں ’اے آئی‘ کے بارے میں ایسے خدشات پھیلا رہی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا اس وقت ’اے آئی‘ کے شعبے میں میں چین سے آگے اور دنیا کا جدید ترین ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکا کی یہ برتری برقرار رہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اے آئی کی دوڑ میں جو جیتے گا وہی غالب آئے گا۔‘

امریکی سینٹرل بینک ’فیڈرل ریزرو‘ کے آئندہ اجلاس میں شرحِ سود میں ممکنہ اضافے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ قطع نظر اس کے کہ فیڈرل ریزرو کا فارمولا کیا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں سب سے کم شرح سود امریکا میں ہونا چاہیے۔

چین کے صدر شی جن پنگ کی جانب سے سربراہی اجلاس منسوخ کیے جانے کے خدشے سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران امریکہ کے ساتھ منصفانہ رویہ اختیار کیا ہے۔

وینزویلا میں انتخابات کے وقت سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ وہاں انتخابات اس وقت ہوں گے جب وہ اس کے لیے تیار ہوں گے۔

Related posts