بھارت کو برکس اجلاس میں بھی ہزیمت اور شدید سبکی کا سامنا
سفارتی تنہائی کے شکار بھارت کو اپنی سربراہی میں برکس اجلاس میں بھی ہزیمت اور شدید سبکی کا سامنا رہا۔
بھارتی سربراہی میں برکس اجلاس کی ناکامی اور عالمی رہنماؤں کی بے رخی نے بھارتی سفارت کاری پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ عالمی رہنما اجلاس میں نام نہاد وشو گرو بھارت کے انتہا پسند وزیرِ اعظم مودی کو یکسر نظر انداز کرتے رہے۔
فیملی فوٹو میں مودی نے زبردستی ہاتھ کھینچ کر صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو اپنی طرف کرلیا۔ اس دوران بھی عالمی رہنماؤں کے ہاتھوں بھی غیر مقبول مودی کو شدید سبکی اٹھانی پڑی۔
برکس اجلاس میں عالمی رہنماؤں نے باہمی ملاقاتوں اور گفتگو کو ترجیح دی جب کہ میزبان مودی پس منظر میں دکھائی دیے۔ سمٹ میں عالمی رہنماؤں کی بے رخی بھارتی وزیر اعظم کی بڑھتی سفارتی تنہائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سعودی عرب نے اجلاس میں صرف وزیرِ خارجہ کو بھیجا جب کہ برازیل کے صدر نے شرکت ہی نہیں کی۔ گودی میڈیا کی پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کی مہم ناکام ہوئی جب کہ ملائیشین وزیر اعظم نے بھارتی بے بنیاد الزامات کو مسترد کر دیا۔
اجلاس کے عشائیے کے دوران گوشت کے بغیر مینو میں بھی ہندو توا کے انتہا پسندوں کا تعصبانہ کردار نمایاں رہا۔