خیبرپختونخوا پولیس میں تبدیلی کی تیاری؛ اختیارات محدود کرنے کی تجویز
خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کا نیا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے، جس میں پولیس کی خودمختاری محدود کرنے اور صوبائی حکومت کا کردار بڑھانے سمیت متعدد اہم تبدیلیوں کی تجاویز دی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ پولیس ایکٹ میں انسپیکٹر جنرل (آئی جی) خیبرپختونخوا کے اختیارات محدود کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ اعلیٰ پولیس افسران کی تعیناتی، تبادلے اور پوسٹنگ کے طریقہ کار میں بھی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔
نئے مسودے کے تحت آئی جی کی تعیناتی کے لیے وفاقی حکومت 3 افسران پر مشتمل پینل صوبائی حکومت کو بھیجے گی۔ صوبائی حکومت کو کسی افسر سے عدم اتفاق کی صورت میں نیا پینل طلب کرنے کا اختیار دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہونے کی صورت میں انہیں مدت مکمل ہونے سے پہلے تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ صوبائی حکومت کو آئی جی کو وفاق واپس بھیجنے کا اختیار دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
مجوزہ قانون میں پولیس افسران کے تبادلے رولز آف بزنس 1985 کے تحت کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کے انتظامی معاملات میں صوبائی حکومت کا براہ راست کردار بڑھانے کی تجویز بھی مسودے کا حصہ ہے۔
نئے پولیس ایکٹ میں پبلک سیفٹی کمیشنز کے نظام میں بھی تبدیلی تجویز کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق کمیشنز کی سربراہی ارکان صوبائی اسمبلی کو سونپنے کی تجویز ہے، جبکہ یہ کمیشنز پولیس کی کارکردگی اور عوامی شکایات کی نگرانی کریں گے۔
پولیس افسران کے خلاف شکایات کے ازالے کے لیے ریجنل کمپلینٹ اتھارٹیز قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ ان اتھارٹیز کو ایس پی رینک تک کے پولیس افسران کے خلاف شکایات کی تحقیقات کا اختیار دینے کی تجویز ہے۔
مجوزہ پولیس ایکٹ میں پولیس آپریشنز اور تفتیشی امور کو الگ رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے جبکہ صوبائی انویسٹی گیشن اور کرائمز برانچز کو مزید بااختیار بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔
جلسے، جلوس اور عوامی اجتماعات کے لیے بھی نیا طریقہ کار متعارف کرانے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ عمومی شاہراہوں پر اجتماع کے لیے ڈپٹی کمشنر سے پیشگی این او سی لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
پولیس میں بھرتیوں کے حوالے سے بھی اہم تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ مسودے کے مطابق تمام کانسٹیبل بھرتیاں ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایویلیوایشن ایجنسی (ای ٹی ای اے) کے ذریعے کرانے کی تجویز ہے۔
ڈی ایس پی کی آسامیوں کو بھی مختلف طریقوں سے پر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مسودے کے مطابق 50 فیصد آسامیاں ترقی کے ذریعے، 30 فیصد براہ راست بھرتی اور 20 فیصد مقابلے کے امتحان کے ذریعے پر کرنے کی تجویز ہے۔
پولیس شہدا کے بچوں کے لیے خصوصی کوٹے کی تجویز بھی نئے مسودے میں شامل ہے، جبکہ اے ایس آئی کی سطح پر 12.5 فیصد کوٹہ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کے مسودے میں پولیس کے انتظامی ڈھانچے، افسران کی تعیناتی، عوامی شکایات کے ازالے، تفتیش اور بھرتیوں سمیت مختلف معاملات میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔