ایران جنگ اور مہنگائی کا طوفان: امریکا نے تین سال بعد شرح سود بڑھا دی
امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے مہنگائی میں مسلسل اضافے کے باعث شرح سود میں ایک چوتھائی فیصد اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد شرح سود 3.75 سے 4 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق یہ گزشتہ 3 سال سے زائد عرصے میں امریکی شرح سود میں پہلا اضافہ ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث تیل اور ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور اس کے اثرات امریکی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔
فیڈرل ریزرو نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ امریکی معیشت مضبوط رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے، تاہم جغرافیائی سیاسی صورتِ حال کے باعث سے غیر یقینی صورتِ حال بدستور زیادہ ہے جبکہ ملک میں اندرونی اخراجات بھی مضبوط ہیں۔
فیڈ نے کہا کہ مہنگائی اب بھی بلند سطح پر ہے اور آج کیا جانے والا فیصلہ مہنگائی کو بروقت 2 فیصد کے ہدف تک واپس لانے میں مدد دے گا۔ مرکزی بینک نے کہا کہ اس کا مقصد قیمتوں میں استحکام لانا ہے۔
فیڈرل ریزرو کے سہ ماہی اندازوں کے مطابق رواں برس شرح سود میں ایک مرتبہ مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے، تاہم اس کے بعد اگلے سال شرح سود میں تبدیلی نہ ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
شرح سود میں اضافے کی توقع گزشتہ چند دنوں میں تیزی سے بڑھی تھی۔ امریکی مالیاتی پالیسی کے فیصلوں کے امکانات پر نظر رکھنے والے ادارے سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق ایک ہفتہ قبل شرح سود میں اضافے کا امکان 40 فیصد تھا، جو فیصلے سے قبل بڑھ کر 92.3 فیصد ہوگیا تھا۔
امریکا میں مہنگائی بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہے۔ اگست میں صارفین کی قیمتوں میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، جو چار ماہ کے دوران سب سے زیادہ ماہانہ اضافہ تھا۔ سالانہ بنیاد پر قیمتوں میں 3.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو جولائی میں بھی اتنا ہی تھا۔
اس دوران امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں حملوں میں اضافے کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بھی بلند ہوگئی ہیں۔ منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 109 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔
امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت 4.36 ڈالر فی گیلن، یعنی تقریباً 1.15 ڈالر فی لیٹر ہوگئی ہے۔ یہ ایک ہفتے میں 14 سینٹ کا اضافہ ہے جبکہ گزشتہ ماہ پیٹرول کی اوسط قیمت 4.06 ڈالر فی گیلن تھی۔
ڈیزل کی قیمت بھی بڑھ کر اوسطاً 6.31 ڈالر فی گیلن، یعنی تقریباً 1.67 ڈالر فی لیٹر ہوگئی ہے، جو اب تک کی بلند ترین اوسط قیمت ہے اور ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے۔
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ مہنگائی پر مزید اثر ڈال سکتا ہے کیونکہ امریکا میں ٹرکوں کے ذریعے پھل، سبزیاں، اسٹیل، سیمنٹ اور دیگر سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے لیے ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔
ادھر امریکا میں 10 سالہ حکومتی بانڈ کی شرح منافع بھی منگل کو 5 فیصد سے تجاوز کرگئی اور 5.02 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ تقریباً 19 سال کی بلند ترین سطح ہے۔
امریکی معیشت کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں ٹفٹس یونیورسٹی کے فلیچر اسکول میں بین الاقوامی اقتصادی امور کے پروفیسر اور غیر جانب دار معاشی و سماجی پالیسی اشاعت ایکونوفیکٹ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر مائیکل کلین نے کہا کہ معیشت ایک غیر معمولی صورتِ حال میں ہے۔
مائیکل کلین کے مطابق بے روزگاری اس وقت قابل اطمینان سطح پر ہے لیکن قیمتوں میں اضافہ برقرار ہے، جس کی وجہ سے مہنگائی فیڈرل ریزرو کے 2 فیصد ہدف سے اوپر ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی زیادہ ہونے سے فیڈ کے چیئرمین کیون وارش پر شرح سود بڑھانے کے لیے بہت دباؤ تھا اور اس دباؤ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شرح سود کم کرنے کے مطالبات نے بھی اضافہ کیا۔
کلین نے مزید کہا کہ زیادہ شرح سود عام طور پر معیشت کی رفتار کم کرتی ہے، تاہم اگر مارکیٹ پہلے ہی شرح سود میں اضافے کی توقع کررہی ہو تو اس کا اثر قیمتوں میں پہلے ہی شامل ہوجاتا ہے، اس لیے یہ فیصلہ مارکیٹ کے لیے بڑا نیا جھٹکا نہیں ہوگا اور اس سے بانڈز کی شرح کو مستحکم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے فیصلے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
تاہم تقریباً تین گھنٹے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شرح سود میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا میں شرح سود 1 فیصد یا اس سے بھی کم ہونی چاہیے کیونکہ امریکا دنیا میں سب سے بہترین کریڈٹ رکھتا ہے اور ملک میں نئی سرمایہ کاری تیزی سے ہورہی ہے۔