این سی سی آئی اے کے سوال نامے پر محمد رضوان کا جواب سامنے آگیا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سوال نامے کے جواب میں کہا ہے کہ آج تک یہ نہیں بتایا گیا کہ کس آن لائن جوئے سے منسوب کیا جارہا ہے؟

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں کرکٹرز کے خلاف انکوائری کے معاملے پر قومی کرکٹر محمد رضوان کے جمع کرائے گئے جواب کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

محمد رضوان نے کہا کہ بطور کرکٹر اپنی اہلیت کے مطابق پاکستانی ٹیم کی خدمت کی ہے، انہوں نے بتایا کہ انہیں 8 ستمبر کو این سی سی آئی اے کا نوٹس موصول ہوا، تاہم آج تک انہیں نہ متعلقہ آن لائن جوئے کے معاملے، نہ وقوعے اور نہ ہی اس میں اپنے مبینہ کردار کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

قومی کرکٹر کے مطابق پیشی کے دوران انہوں نے متعدد بار اپنے خلاف الزامات کی تفصیلات طلب کیں لیکن پوچھنے کے باوجود انہیں الزامات سے متعلق مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

انہوں نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ کرکٹرز سے متعلق کرپشن کے معاملات کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا اینٹی کرپشن یونٹ متعلقہ فورم ہے اور ان کے خلاف الزامات آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کو رپورٹ نہیں کیے گئے۔

محمد رضوان نے مزید کہا کہ این سی سی آئی اے کی جانب سے ایسے معاملے کی انکوائری کرنا  سمجھ سے بالاتر ہے کیوں کہ ایسی کسی شکایت پر تحقیقات آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کا اختیار ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو اس کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ وہ انکوائری کا حصہ بن سکیں جبکہ معاملہ کرپشن سے متعلق ہونے کی صورت میں اسے فوری طور پر اینٹی کرپشن یونٹ کو بھجوایا جائے۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کا سوالنامہ

اس سے قبل نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں مبینہ جوئے کی انکوائری کے حوالے سے محمد رضوان کو 5 صفحات پر مشتمل سوال نامہ دیا گیا۔

محمد رضوان سے ان کی ولدیت، تاریخ پیدائش، جائے پیدائش، اہلیہ کا نام اور بچوں کی تفصیلات اور گزشتہ دس سال سے ان کے کے زیر استعمال فیس بک، ٹویٹر، انسٹا گرام اور دیگر سوشل میڈیا اکاونٹس کی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔

سوال نامے کے مطابق کرکٹر سے گزشتہ پانچ سال کے دوران تنخواہ کے ذرائع، کرائے کی مد میں آمدن، کاروباری ، زرعی آمدن اور بینک میں موجود رقم پر منافع کی تفصیل بھی طلب کی گئی۔

اس کے علاوہ پانچ سال میں کیے گئے گھریلو اخراجات، بچوں کے تعلیمی اخراجات اور وراثتی جائیداد کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں، وراثتی جائیداد کس سے منتقل ہوئی؟ محمد رضوان کو اس کا ثبوت بھی فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔

کرکٹر سے 5 سال کے دوران جائیداد کی خرید و فروخت، بین الاقوامی دوروں ، اخراجات، اور قیام کی مدت اور اندرون ملک میں سفر کرنے سے متعلق تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔

این سی سی آئی اے نے کرکٹر سے گزشتہ 5 سال کے تمام بینک اکاونٹس، کریڈٹ کارڈز کی تفصیلات مانگی ہیں ، اس کے علاوہ کرکٹر نے اگر کسی سے کوئی قرض لیا تو اسکی تفصیل بھی فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔

محمد رضوان کی درخواست مسترد

یاد رہے کہ لاہو ہائی کورٹ نے آج محمد رضوان کی این سی سی آئی اے نوٹس کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے درخواست پر سماعت کی، محمد رضوان عدالت میں پیش نہیں ہوئے، ان کے وکیل عمیر قاضی عدالت میں موجود تھے۔

جسٹس عالیہ نیلم نے محمد رضوان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو حقائق چھپانے پر بھاری جرمانہ ہونا چاہیے، آپ نے طلبی نوٹس کو چیلنج کیا، آپ شوکاز نوٹس کا جواب دیں۔

واضح رہے کہ این سی سی آئی اے نے محمد رضوان اور امام الحق کو سوال نامہ دیا تھا، دونوں کھلاڑیوں نے 15 ستمبر تک سوالنامے کے جوابات جمع کرانے تھے، امام الحق نے سوالنامے کے جوابات جمع کروا دیے۔

محمد رضوان اور امام الحق کو دورہ انگلینڈ سے وطن واپس بلا لیا گیا تھا جس کے بعد دونوں کے خلاف تحقیقات شروع کی گئیں۔

Related posts