پی سی بی کا ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام: محسن نقوی کا اسکول کرکٹ کو ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کی ہدایت پر ملک بھر میں اسکول کرکٹ کا دائرہ کار پھیلانے کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ قومی سطح پر ابھرتے ہوئے نئے ٹیلنٹ کو سامنے لایا جا سکے۔ اس منصوبے کے تحت پی سی بی ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام فار اسکولز کا دوسرا سیزن شروع ہو رہا ہے، جس کا پہلا اوپننگ میچ ہفتے کے روز بیکن ہاؤس اور ایچیسن کالج کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے گا۔ یہ میچ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں دوپہر دو بجے شروع ہوا۔

اس خاص تقریب کے مہمانِ خصوصی چیئرمین پی سی بی محسن نقوی ہیں۔ افتتاحی میچ کے اختتام پر شائقینِ کرکٹ کی تفریح کے لیے پی سی بی کی جانب سے ایک شاندار میوزیکل کنسرٹ کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، جس میں معروف گلوکار راحت فتح علی خان اپنی آواز کا جادو جگائیں گے۔ کرکٹ اور موسیقی کے اس شائقین دوست ایونٹ کے لیے پی سی بی نے اعلان کیا ہے کہ اسٹیڈیم میں شائقین کا داخلہ بالکل مفت ہوگا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے آ سکیں۔

پاکستان میں کرکٹ کے ٹیلنٹ پر کسی کو شک نہیں۔ یہ وہ ملک ہے جہاں گلی محلے اور اسکول کے میدانوں سے ایسے کھلاڑی سامنے آتے رہے ہیں جنہوں نے آگے چل کر دنیا کے بڑے کرکٹ میدانوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ یہاں مسئلہ ٹیلنٹ کی کمی کا نہیں بلکہ اس ٹیلنٹ تک بروقت پہنچنے، اسے پہچاننے اور پھر درست سمت میں آگے بڑھانے کا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ سمجھتا ہے کہ اس کی ذمہ داری صرف میچز اور ٹورنامنٹس منعقد کرنے تک محدود نہیں۔ ایک مضبوط کرکٹ نظام کی بنیاد اس وقت بنتی ہے جب باصلاحیت بچوں کو ان کے ابتدائی برسوں میں تلاش کیا جائے، انہیں کھیلنے کے مواقع دیے جائیں، ان کی صلاحیتوں کو نکھارا جائے اور ان کے لیے آگے بڑھنے کا واضح راستہ موجود ہو۔ یہی وہ سوچ ہے جو سکول کرکٹ کو پاکستان کرکٹ کے مستقبل کے لیے اہم بناتی ہے۔

پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے پاکستان میں اسکول کرکٹ کے فروغ اور نئے ٹیلنٹ کی تلاش کو خصوصی اہمیت دی ہے اور اس مقصد کے لیے اسکول کی سطح پر کئی نئے ٹورنامنٹس اور پروگرام شروع کروائے ہیں۔

گزشتہ سال شروع کیا گیا اسکول کرکٹ پروگرام اسی سمت میں ایک اہم قدم تھا۔ 2025-26 میں 39 اضلاع کے 450 اسکولوں نے اس پروگرام میں حصہ لیا، جو اس وقت پاکستان کی تاریخ میں سکول کرکٹ کی سب سے بڑی شرکت تھی۔ اس تجربے کو بنیاد بناتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ نے رواں سال اس پروگرام کو کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر ملک بھر میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

محسن نقوی کی جانب سے اسکول کرکٹ کو ملک بھر میں وسعت دینے پر خصوصی توجہ کا مقصد بھی یہی ہے کہ نئے اور غیر معروف ٹیلنٹ کو ابتدائی سطح پر تلاش کر کے اسے قومی کرکٹ کے نظام کا حصہ بنایا جا سکے۔ اس سال 100 اضلاع کے 1400 اسکولوں سے تقریباً 21 ہزار طلبہ میدان میں اتریں گے اور 2 ہزار 895 میچز کھیلے جائیں گے۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں یہ غیر معمولی توسیع ہے۔ لیکن ان اعداد کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ اب ہزاروں نوجوانوں کو اپنی صلاحیت دکھانی، مقابلہ کرنے اور سسٹم کی نظروں میں آنے کا موقع ملے گا۔

اسکول کی سطح پر نئے ٹورنامنٹس شروع کروانے اور ان کا دائرہ وسیع کرنے کے حوالے سے کرکٹ بورڈ کے اقدامات نے اس عمل کو مزید منظم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاکہ صرف روایتی کرکٹ مراکز ہی نہیں بلکہ دور دراز علاقوں سے بھی باصلاحیت کھلاڑی سامنے آسکیں۔

پی سی بی کی جانب سے اس پروگرام کو حقیقی معنوں میں قومی بنانے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ گلگت سے گوادر تک مختلف علاقوں کے اسکول اس سرگرمی کا حصہ ہیں۔ فاٹا کے 124 اسکولوں کی شرکت ڈیرہ اسماعیل خان کے 80 سے زائد اسکولوں کی شمولیت جبکہ کشمیر اور لاڑکانہ سمیت مختلف علاقوں سے آنے والے نوجوان اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کا کرکٹ ٹیلنٹ کسی ایک شہر یا خطے تک محدود نہیں۔

اس سال کی سرگرمی صرف میچز تک محدود نہیں رہے گی۔ 1400 اسکولوں میں سکلز ڈویلپمنٹ کیمپس کے ذریعے نوجوانوں کی بیٹنگ، باؤلنگ فیلڈنگ اور فٹنس پر کام کیا جارہا ہے۔ تجربہ کار ریجنل اور ڈسٹرکٹ کوچز جن میں سابق اور بین الاقوامی کرکٹرز بھی شامل ہیں، نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت کر رہے ہیں۔

اسکول کرکٹ کے فروغ کے لیے محسن نقوی کی زیر قیادت بورڈ ترجیحات میں صرف ٹورنامنٹس کا انعقاد نہیں بلکہ ان مقابلوں کے ذریعے سامنے آنے والے ٹیلنٹ کو تربیت اور کوچنگ فراہم کرنا بھی شامل ہے، تاکہ با صلاحیت بچوں کو آگے بڑھنے کے لیے عملی پلیٹ فارم میسر آسکے۔ اس کے بعد اصل مقابلہ شروع ہوگا۔ اسکول کرکٹ کا یہ سفر ڈسٹرکٹ لیول سے ڈویژن، پھر صوبائی اور بالآخر پاکستان لیول تک جائے گا۔ ستمبر سے اکتوبر تک ڈسٹرکٹ لیگ کے پول میچز نومبر میں 100 ٹیموں کا ناک آؤٹ مرحلہ اور نومبر کے آخر سے دسمبر تک قومی مرحلہ منعقد ہوگا، جس کا فائنل 5 دسمبر کو ہوگا۔

یہاں ایک نوجوان کھلاڑی کے لیے سب سے اہم چیز صرف ٹرافی نہیں بلکہ وہ راستہ ہے جو اس کے بعد کھلتا ہے۔ بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو 15، 17 اور 19 کرکٹ کے ساتھ 16 ریجنل اکیڈمیز اور ریجنل کرکٹ تک رسائی کا موقع دیا جائے گا۔

پاکستان کے کسی دور افتادہ ضلع کا ایک اسکول بوائے شاید آج صرف اپنے سکول کی ٹیم کے لیے کھیل رہا ہو۔ لیکن اگر اس میں صلاحیت ہے، تو اس پروگرام کے ذریعے اسے دیکھنے پرکھنے اور آگے بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ یہی اسکول کرکٹ کی اصل طاقت ہے۔

یہ صرف ایک ٹورنامنٹ نہیں بلکہ پاکستان کے ان نوجوانوں تک پہنچنے کی کوشش ہے جو کھیلنا چاہتے ہیں، آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور ایک دن پاکستان کی گرین کٹ پہننے کا خواب دیکھتے ہیں۔ محسن نقوی کی جانب سے اسکول کی سطح پر نئے ٹورنامنٹس شروع کروانے اور سکول کرکٹ کے دائرہ کار کو مسلسل وسیع کرنے کے اقدامات بھی اسی وسیع تر مقصد کا حصہ ہیں کہ پاکستان کے نئے ٹیلنٹ کو اس کی ابتدائی سطح پر تلاش کیا جائے اور اسے قومی کرکٹ تک پہنچنے کا موقع دیا جائے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوشش ہے کہ یہ خواب صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہے، بلکہ ملک کے ہر اس بچے اور نوجوان تک پہنچے جس میں پاکستان کے مستقبل کا کرکٹر بننے کی صلاحیت موجود ہے۔

Related posts