یکم جولائی سے تنخواہوں، گاڑیوں اور سوشل میڈیا پر کتنا ٹیکس ہوگا؟ فنانس بل قومی اسمبلی سے منظور
قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کامالی بجٹ بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے، جس کے تحت ٹیکس نظام، کسٹمز قواعد، گاڑیوں کی درآمد، سوشل میڈیا آمدن اور مختلف کاروباری شعبوں سے متعلق اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔ ایوان میں اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد جب کہ حکومت کی جانب سے پیش کردہ بیشتر تجاویز کو منظوری مل گئی۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت منگل کو ہونے والے اجلاس میں فنانس بل کی شق وار منظوری کا عمل مکمل ہوگیا۔ فنانس بل وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ایوان میں پیش کیا تھا، جسے قومی اسمبلی نے اکثریتِ رائے سے منظور کر لیا۔
اجلاس کے دوران بجٹ دستاویز کی تمام شقوں پر تفصیلی بحث کی گئی، اسی دوران اپوزیشن ارکان عالیہ کامران، نعیمہ کشور اور شاہدہ اختر علی کی پیش کردہ ترامیم مسترد ہوگئیں جب کہ پی پی رہنما علی قاسم گیلانی نے اپنی ترمیم خود ہی واپس لے لی۔
نئی ترامیم کے بعد اب عام صارفین کے لیے بیرونِ ملک سے آنے والے موبائل فونز پر عائد ٹیکس کی ادائیگی کو آسان بنایا گیا ہے اور اب یہ رقم ایک ہی بار ادا کرنے کے بجائے اقساط میں بھی جمع کرائی جا سکے گی۔
یکم جولائی سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے آمدن حاصل کرنے والے افراد پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد ہوگا، جب کہ ملکی اور غیر ملکی ایئر لائنز کو دی جانے والی بعض ٹیکس رعایتیں یکم جولائی 2027 سے نافذ العمل ہوں گی۔
فنانس بل میں لگژری اور بڑی گاڑیوں پر ٹیکسوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ درآمدی 2000 سے 3000 سی سی گاڑیوں پر ایکسائز ڈیوٹی 86 فیصد مقرر کی گئی ہے، جبکہ 3000 سی سی سے زائد گاڑیوں پر یہ شرح 92 فیصد ہو گی۔
تاہم الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے 75 ہزار ڈالر تک مالیت رکھنے والی برقی گاڑیوں پر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اس حد سے زائد قیمت والی الیکٹرک گاڑیوں پر 30 سے 40 فیصد تک ٹیکس عائد ہو گا۔
نئے بجٹ میں پٹرولیم اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے متعلق ایک اہم شق ختم کر دی گئی ہے۔ اسی طرح کسٹم حکام کو پابند بنایا گیا ہے کہ کسی بھی شہری یا تاجر کے اثاثے ضبط کرنے سے قبل اسے اپنا مؤقف پیش کرنے اور صفائی کا مکمل موقع دیا جائے۔
حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس نظام میں بھی کئی اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ اسٹیل کے کاروبار پر اب بجلی کے استعمال کی بنیاد پر سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا، جب کہ کمپیوٹرائزڈ نظام سے منسلک جوتوں کے تاجروں کو خصوصی رعایت فراہم کی گئی ہے۔
ایسے کاروباری حضرات جن کی سالانہ آمدن 20 کروڑ روپے تک ہے، انہیں فائنل ٹیکس نظام سے باہر آنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب نان فائلرز کے لیے جرمانوں اور سرچارج کی شرح میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
بل کے تحت اسٹیٹ بینک کو ملک بھر کے بینکوں کے ڈیٹا پر مشتمل ایک مرکزی کمپیوٹرائزڈ سسٹم قائم کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ادویات، کھاد، چینی اور الیکٹرانکس کے شعبوں میں کام کرنے والے بڑے ڈسٹری بیوٹرز کے لیے کم از کم ٹیکس کی شرح 0.5 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
قانون میں ٹیکس دہندگان کے حقوق سے متعلق ایک اہم شق بھی شامل کی گئی ہے، جس کے مطابق اگر کسی ٹیکس گزار کے لیے آڈیٹر مقرر کیا جائے تو اسے 15 دن کے اندر اس تقرری پر اعتراض اٹھانے کا قانونی حق حاصل ہو گا۔