چین سے بھاگنے والے ارب پتی کو امریکا میں 30 سال قید کی سزا

امریکا میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والے چینی ارب پتی کاروباری شخصیت گوو وینگوئی کو بڑے مالیاتی فراڈ کے جرم میں 30 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ امریکی عدالت نے قرار دیا کہ گوو نے دنیا بھر میں ایک ہزار سے زائد افراد کو دھوکا دے کر کروڑوں ڈالر ہتھیائے اور ان رقوم سے شاہانہ طرزِ زندگی اختیار کیا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نیویارک کے مین ہیٹن میں وفاقی عدالت کی جج اینالیسا ٹوریس نے سزا سناتے ہوئے کہا کہ گوو وینگوئی نے ان افراد کو نشانہ بنایا جو چین میں جمہوریت کے قیام کی امید رکھتے تھے۔

جج کا کہنا تھا کہ ملزم نے ایسے افراد سے پیسہ لیے جو چین میں تبدیلی چاہتے تھے اور پھر اسی دولت سے عیش و عشرت کی زندگی گزاری۔

عدالت میں سزا سنائے جانے کے موقع پر گوو وینگوئی کے متعدد حامی بھی موجود تھے۔ سزا سے قبل گوو نے جیل میں اپنے ساتھ ہونے والے رویے پر شکایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پیر کی صبح طبیعت خراب ہونے پر اسپتال لے جایا گیا تھا۔

گوو نے عدالت کو بتایا کہ جب میں یہاں آیا تو میں نے کہا کہ میرے پیٹ میں درد ہے، مجھے باتھ روم جانا ہے، میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران گوو وینگوئی بار بار رومال سے اپنا منہ بھی صاف کرتے نظر آئے۔

گوو نے مقدمے پر مختصر بات کرتے ہوئے اپنے ارادوں کا دفاع کیا اور کہا کہ میں امریکا اس لیے آیا تھا تاکہ چینی کمیونسٹ پارٹی کا خاتمہ کر سکوں۔

جج اینالیسا ٹوریس نے سزا سناتے وقت متاثرین کے خطوط کے کچھ حصے بھی پڑھ کر سنائے۔ ان خطوط میں متاثرہ افراد نے بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی کھو دی، شدید ذہنی دباؤ اور شرمندگی کا سامنا کیا جبکہ بعض کے اپنے خاندان والوں نے بھی غلط سرمایہ کاری پر ان سے تعلقات خراب کر لیے۔

امریکی جج کا کہنا تھا کہ گوو اپنے اعمال کی کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتا بلکہ حیران کن طور پر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے کیے سےنہ کسی کو نقصان پہنچا اور نہ کسی کا مالی خسارہ ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نے اپنے حامیوں کو ان لوگوں کو ہراساں اور ڈرانے کی ترغیب بھی دی جو اس کے خلاف بولنے کی ہمت کرتے تھے۔

عدالت نے گوو وینگوئی کو 889 ملین ڈالر ضبط کرنے اور متاثرین کو واپس ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔

مقدمے میں گواہی دینے والی متاثرہ خاتون وی چن نے عدالت سے کہا کہ گوو کے فراڈ نے میری اور میرے خاندان کی زندگی تباہ کر دی۔

سزا سنائے جانے کے بعد جب گوو عدالت سے باہر نکلے تو ان کے حامیوں نے تالیاں بجائیں اور ان کے حق میں نعرے بھی لگائے۔

استغاثہ کے مطابق چینی ملزم نے 2018 سے 2023 کے درمیان مختلف کمپنیوں اور منصوبوں میں سرمایہ کاری کے نام پر لاکھوں افراد سے ایک ارب ڈالر سے زیادہ رقم حاصل کی۔ ان منصوبوں میں جی ٹی وی میڈیا گروپ، ہمالیہ فارم الائنس اور ہمالیہ ایکسچینج شامل تھے۔

سرکاری وکلا کا کہنا تھا کہ گوو نے اس رقم سے محل نما گھروں، لگژری یاٹس، ریسنگ کاروں، مہنگے ڈیزائنر ملبوسات اور قیمتی فرنیچر پر بے تحاشا اخراجات کیے۔ استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ اس کے حیران کن فراڈ نے سینکڑوں خاندانوں کی زندگیاں مالی، جذباتی اور نفسیاتی طور پر تباہ کر دیں۔

سات ہفتوں تک جاری رہنے والے مقدمے کے بعد جیوری نے گوو کو 12 میں سے 9 الزامات میں قصوروار قرار دیا تھا۔

گوو وینگوئی کے وکلا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کو چینی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے کئی برسوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق چین نے امریکا کے کاروباری، سیاسی اور تفریحی شعبوں کی بااثر شخصیات کو بھی گوو کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی۔

وکلا نے یہ بھی کہا کہ طویل قید کی سزا چین کی مبینہ منفی مہم کو تقویت دے گی اور بیرون ملک موجود چینی حکومت کے ناقدین کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی۔ ان کے مطابق اسی نوعیت کے دیگر مقدمات میں ملزمان کو صرف دو سے چار سال تک قید کی سزا دی گئی تھی۔

دفاعی ٹیم نے مزید بتایا کہ گوو، جو مائلز گوو اور ہو وان کوک کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، چین میں مبینہ تشدد کا نشانہ بن چکے ہیں اور 1993 سے 2022 کے دوران انہیں متعدد سرجریاں بھی کرانا پڑیں۔

ملزم کے وکلا کنے بتایا کہ گوو کے خاندان کا شمار چین کی ایک بڑی سیکیورٹیز کمپنی کے بڑے حصص یافتگان میں ہوتا تھا، تاہم سرکاری اہلکاروں پر بدعنوانی کے الزامات لگانے کے بعد وہ خود حکومتی کارروائیوں کی زد میں آ گئے۔ بعد ازاں وہ ہانگ کانگ، لندن اور پھر 2017 میں نیویارک منتقل ہو گئے۔

دوسری جانب چینی حکام پہلے ہی گوو پر زیادتی، اغوا، رشوت اور دیگر جرائم کے الزامات عائد کر چکے ہیں، لیکن گوو ان تمام الزامات کو جھوٹا قرار دیتے رہے ہیں۔

Related posts