غزہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلطسینی گول کیپر شہید

غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطین کے مقامی فٹ بالر اور معروف گول کیپر سلیم الاشقر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہوگئے۔ عرب میڈیا کے مطابق سلیم الاشقر کو غزہ کے علاقے خان یونس کے شمال مشرق میں واقع قصبے القرارہ میں اسرائیلی فوج نے سینے میں گولی مار کر شہید کیا۔

فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک 1000 سے زائد فلسطینی کھلاڑی اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے 560 سے زائد فٹبال سے وابستہ تھے۔

تفصیلات کے مطابق فلسطینی فٹ بالر سلیم خضر الاشقر غزہ کی پٹی کے مشہور مقامی کلب ’خدمات خان یونس‘ اسپورٹس کلب کے ساتھ بطورِ گول کیپر وابستہ تھے۔ اپنے فٹ بال کیریئر کے دوران وہ غزہ کے دو دیگر اسپورٹس کلبوں، الأقصیٰ اور المصدّر کی بھی نمائندگی کرچکے تھے۔

سلیم الاشقر کی پانچ ماہ قبل شادی ہوئی تھی۔ ان کی شہادت کے بعد اہل خانہ، ساتھیوں اور فلسطینی اسپورٹس برادری میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

چلی کے فٹبال کلب ’ڈیپورٹیوو فلسطینو‘ نے بھی ان کی شہادت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سلیم الاشقر کی موت پر گہرے رنج میں ہیں اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔

دوسری جانب فٹبال کے عالمی مقابلوں کے دوران بھی فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے مناظر دیکھے جا رہے ہیں۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے میچز میں بھی مختلف ممالک کے شائقین فلسطینیوں کے حق میں نعرے اور مظاہرے کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

کئی میچز کے دوران شائقین فلسطینی شناخت کی علامت ’کوفیہ‘ پہنے بھی اسٹیڈیم میں دکھائی دیے۔

الجزائر اور ارجنٹینا کے میچ کے دوران کینساس سٹی میں شائقین نے فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے نعرے لگائے جب کہ اردن کے فینز بھی ارجنٹینا کے میچ سے قبل فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے دکھائی دیے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ میں اسپورٹس انفراسٹرکچر مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جب کہ کئی معروف اسپورٹس مین بھی اسرائیلی فوج کا نشانہ بن چکے ہیں، جس سے کھیلوں کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

اس سے قبل فلسطین کی نیشنل ٹیم کے سابق کپتان اور ’فلسطینی پیلے‘ کے نام سے مشہور مایہ ناز اسٹرائیکر سلیمان العبید اور سابق قومی کھلاڑی محمد برکات بھی غزہ میں اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے تھے۔

Related posts