اسٹیٹ بینک کی 10 روپے کا نوٹ ختم کرنے کی تجویز

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں اسٹیٹ بینک حکام نے 10 روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ چھوٹا کرنسی نوٹ 20 روپے کا ہوگا۔ حکام کے مطابق 10 روپے کے نوٹ کی تیاری پر لاگت زیادہ آنے کے باعث اسے ختم کرکے اس کی جگہ 10 روپے کا سکہ جاری کرنے کی تجویز ہے۔

منگل کے روز سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا، جس میں اسٹیٹ بینک حکام نے نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن، تیاری کی لاگت اور جعلی کرنسی سے متعلق کمیٹی کو بریفنگ دی۔

ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین نے بتایا کہ مرکزی بینک نے 10 روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے کی درخواست کی ہے۔ آئندہ جب نئے کرنسی نوٹ جاری کیے جائیں گے تو ان میں 10 روپے کا نوٹ شامل نہیں ہوگا بلکہ اس کی جگہ 10 روپے کا سکہ جاری کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ 10 روپے کے کرنسی نوٹ کی تیاری پر لاگت زیادہ آتی ہے، جس کے باعث اسے ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم موجودہ 10 روپے کے نوٹ فوری طور پر ختم نہیں ہوں گے بلکہ نئے کرنسی نوٹ جاری ہونے کے بعد یہ تبدیلی مرحلہ وار عمل میں لائی جائے گی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے تیار کیے گئے نئے کرنسی نوٹوں کا ابتدائی ڈیزائن وزیر خزانہ کی زیر صدارت قائم کمیٹی نے مسترد کردیا ہے۔

ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین نے کہا کہ کمیٹی کی تجاویز کی روشنی میں نئے فیچرز اور ڈیزائن میں ضروری تبدیلیاں شامل کی جارہی ہیں۔

اسٹیٹ بینک حکام کے مطابق نئے کرنسی نوٹوں میں جعلی نوٹوں کی روک تھام کے لیے مزید جدید سیکیورٹی فیچرز شامل کیے جائیں گے تاہم جعلی کرنسی کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ حکام نے مزید بتایا کہ پاکستان میں دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں جعلی کرنسی کی گردش نسبتاً کم ہے، تاہم اس وقت ایک ہزار اور 5 ہزار روپے کے جعلی نوٹ زیادہ گردش میں ہیں۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے انکشاف کیا کہ بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں سے بھی جعلی کرنسی نکلنے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جعلی نوٹوں کی تعداد میں اضافے کے باعث بعض دکاندار ایک ہزار اور 5 ہزار روپے کے نوٹ قبول کرنے سے گریز کررہے ہیں۔

سلیم مانڈوی والا نے اجلاس کے دوران یہ بھی بتایا کہ 2 سال قبل انہوں نے اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر کو 5 ہزار روپے کے تین نوٹ دیے تھے، جن میں سے ایک جعلی تھا، تاہم اسٹیٹ بینک حکام اس جعلی نوٹ کی نشاندہی نہیں کرسکے۔

چیئرمین کمیٹی کے مطابق اسٹیٹ بینک نے دو سال گزرنے کے باوجود وہ تینوں نوٹ واپس نہیں کیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دو سال سے نئے کرنسی نوٹ تیار نہیں ہوسکے۔ ان کے ان ریمارکس پر کمیٹی اجلاس میں قہقہے بھی گونج اٹھے۔

اسٹیٹ بینک حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 5 ہزار اور ایک ہزار روپے کے ایک ایک نوٹ کی تیاری پر تقریباً 14 روپے لاگت آتی ہے۔ حکام کے مطابق 5 ہزار روپے کا موجودہ نوٹ تقریباً 20 سال قبل ڈیزائن کیا گیا تھا اور اب اسے آئندہ 20 سال کے لیے نئے ڈیزائن اور سیکیورٹی فیچرز کے ساتھ تیار کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ نئے نوٹوں کے ڈیزائن میں جدید سیکیورٹی خصوصیات شامل کی جارہی ہیں تاکہ جعلی کرنسی کی روک تھام میں مدد مل سکے۔

اجلاس میں سینیٹر انوشہ رحمان نے سوال اٹھایا کہ اسٹیٹ بینک نئے کرنسی نوٹوں کی تیاری اور ڈیزائن کے عمل میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کیوں نہیں کررہا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے ڈیزائن کی منظوری کے لیے کابینہ کی ذیلی کمیٹی سے رجوع کیا ہے اور جس رفتار سے یہ عمل جاری ہے اس میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔

انوشہ رحمان نے مزید کہا کہ اگر ذیلی کمیٹی سے ڈیزائن منظور ہونے کے بعد کابینہ کمیٹی کی جانب سے کوئی تبدیلی تجویز کی گئی تو معاملہ دوبارہ ذیلی کمیٹی میں جانا پڑے گا۔

سلیم مانڈوی والا نے بھی نئے نوٹوں کے ڈیزائن میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس رفتار سے کام جاری ہے، خدشہ ہے کہ کمیٹی کے ارکان کی مدت ختم ہوجائے گی لیکن نئے نوٹ جاری نہیں ہوسکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک کو نئے کرنسی نوٹ تیار کرنے میں دو سال لگ گئے ہیں۔

اسٹیٹ بینک حکام نے بتایا کہ کابینہ کمیٹی نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کو حتمی شکل دے رہی ہے۔

چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے بتایا کہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کے لیے کنسلٹنٹ کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنسلٹنٹ کی کمپنی کو نوٹ ڈیزائن کرنے کا معاہدہ دینے کے باوجود نئے نوٹوں کی تیاری کے عمل میں تاخیر ہورہی ہے۔

سلیم مانڈوی والا نے اجلاس میں یہ بھی کہا کہ انہیں اسٹیٹ بینک سے 15 ہزار روپے وصول کرنے ہیں اور دو سال سے یہ رقم واپس نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق دو سال قبل اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر کو تین نوٹ دیے گئے تھے جو تاحال واپس نہیں کیے گئے۔

واضح رہے کہ رواں سال فروری میں بھی اسٹیٹ بینک نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو 10 روپے سے 5 ہزار روپے تک تمام کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن تیار کرنے اور ان میں جدید سیکیورٹی فیچرز شامل کرنے کے منصوبے سے آگاہ کیا تھا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق نئے کرنسی نوٹ جاری ہونے کے بعد 10 روپے کا نوٹ مرحلہ وار ختم کرکے اس کی جگہ 10 روپے کا سکہ جاری کیا جائے گا جب کہ دیگر مالیت کے نوٹوں کے ڈیزائن اور سیکیورٹی فیچرز کو بھی جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جارہا ہے۔

Related posts