اسپین نے فرانس کے فٹبال ورلڈ کپ فاتح بننے کا خواب چکنا چور کردیا
اسپین نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرانس کو 0-2 سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کے فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ 2010 میں اپنا پہلا عالمی ٹائٹل جیتنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسپین ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچا ہے۔
پورے میچ میں اسپین نے گیند پر اپنی گرفت مضبوط رکھی، کھیل کی رفتار اپنے کنٹرول میں رکھی اور فرانس کے مضبوط حملہ آوروں کو مؤثر کھیل پیش کرنے کا موقع نہیں دیا۔
میچ کے آغاز سے ہی اسپین نے جارحانہ انداز اپنایا اور مسلسل پریسنگ کے ذریعے فرانس کو دباؤ میں رکھا۔ اسپین کی جانب سے میکل اویارزابال اور پیڈرو پورو نے ایک، ایک گول کیا، تاہم اسکور لائن اسپین کی مکمل برتری کی پوری طرح عکاسی نہیں کرتی کیونکہ یورپی چیمپئن ٹیم نے تقریباً پورے مقابلے پر اپنی گرفت برقرار رکھی۔
میچ کے بعد اسپین کے گول اسکورر پیڈرو پورو نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فائنل تک پہنچنا ان کے لیے خواب پورا ہونے کے مترادف ہے۔ ان کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اس مقام تک پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم نے ایک مضبوط حریف کے خلاف ہر شعبے میں بہترین کھیل پیش کیا اور کامیابی پورے اسکواڈ کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے۔
اس فتح کے ساتھ اسپین اب ورلڈ کپ اور یورپی چیمپئن شپ دونوں ٹائٹلز اپنے نام کرنے سے صرف ایک کامیابی دور ہے۔ فائنل میں اس کا مقابلہ انگلینڈ اور ارجنٹائن کے درمیان دوسرے سیمی فائنل کی فاتح ٹیم سے ہوگا، جبکہ یہ میچ بدھ کو اٹلانٹا میں کھیلا جائے گا۔
دوسری جانب فرانس کو شکست کے بعد اب تیسرے نمبر کے لیے پلے آف میچ کھیلنا ہوگا۔ فرانس کے کوچ دیدیے دیشان نے کہا کہ کھلاڑی اس شکست سے بہت مایوس ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ تکنیکی اعتبار سے اسپین بہتر ٹیم ثابت ہوئی۔ ان کے مطابق فرانس کی ٹیم درست انداز میں پاسنگ، توانائی اور تکنیکی معیار برقرار رکھنے میں ناکام رہی جبکہ اسپین نے ان کے حملوں کو مؤثر انداز میں روک دیا۔
اسپین کی نوجوان نسل، خصوصاً لامین یامال، نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جبکہ مجموعی طور پر پوری ٹیم نے غیر معمولی ہم آہنگی کے ساتھ کھیل پیش کیا۔ اسپین کے کھلاڑیوں کی پاسنگ، ایک دوسرے کی نقل و حرکت کو سمجھنے کی صلاحیت اور اجتماعی کھیل نے فرانس کو مسلسل دفاع پر مجبور رکھا۔
اسپین نے میچ کا پہلا گول 22ویں منٹ میں کیا۔ مارک کوکوریلا کی جانب سے کیے گئے کراس پر لامین یامال کو فرانسیسی ڈیفنڈر لوکاس دینیے کی جانب سے فاؤل کیا گیا، جس پر ریفری نے فوری طور پر پنالٹی کا فیصلہ دیا۔ میکل اویارزابال نے پنالٹی پر طاقتور شاٹ لگا کر گیند جال میں پہنچا دی اور اسپین کو برتری دلا دی۔
پہلا گول کھانے کے بعد فرانس نے کھیل میں واپسی کی کوشش کی، تاہم اسپین نے انہیں زیادہ مواقع نہیں دیے۔ فرانس کے خطرناک حملہ آور مائیکل اولیسے، عثمان ڈیمبیلے، بریڈلی بارکولا، دیزیرے دوئے اور کپتان کیلیان ایمباپے اسپین کے مضبوط دفاع اور مسلسل دباؤ کے باعث اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار نہ کر سکے۔ پورے میچ میں فرانس صرف دو مرتبہ ہی ہدف پر شاٹ لگا سکا۔
میچ کے تقریباً ایک گھنٹے بعد اسپین نے اپنی برتری دگنی کر دی۔ پیڈرو پورو نے دانی اولمو کے ساتھ خوبصورت پاسوں کے تبادلے کے بعد گیند کو جال میں پہنچا کر اسکور 0-2 کر دیا۔ اس گول کے بعد فرانس کے لیے واپسی مزید مشکل ہو گئی۔
میچ کے اختتام پر فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے نے اعتراف کیا کہ ان کی ٹیم حکمت عملی، تکنیکی معیار اور مجموعی کھیل کے اعتبار سے اپنی توقعات پر پورا نہیں اتر سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل جیسے اہم میچ میں اگر ٹیم اپنی منصوبہ بندی پر عمل نہ کرے تو کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ انہوں نے اسپین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حریف ٹیم نے اپنے منصوبے پر مکمل اعتماد کے ساتھ عمل کیا اور اسی وجہ سے کامیابی حاصل کی۔
آخری سیٹی بجتے ہی اسپین کے کھلاڑی خوشی سے میدان میں جشن منانے لگے، جبکہ فرانسیسی کھلاڑی مایوسی کے عالم میں میدان سے باہر گئے۔ اب اسپین صرف ایک اور کامیابی حاصل کر کے اپنی تاریخ کا دوسرا ورلڈ کپ ٹائٹل جیتنے اور عالمی فٹبال میں اپنی نئی گولڈن جنریشن کی آمد پر مہر ثبت کرنے سے ایک قدم دور ہے۔