ایران کی نئی حکمتِ عملی: طاقت کے باوجود امریکا بے بس کیوں دکھائی دے رہا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ سی این این کے مطابق ایران نے صدر ٹرمپ کی حکمتِ عملی میں تضادات کو ان ہی کے خلاف استعمال کرکے مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط کرلی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ایران ٹرمپ کے طرزِ سیاست کو بھرپور طریقے سے ان ہی کے خلاف استعمال کر رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر کے لیے اس جنگ کو ختم کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا امریکا کی فوجی طاقت، اقتصادی پابندیاں اور سخت بیانات ایران کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں یا تہران اپنی جغرافیائی اہمیت اور محدود مگر مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے ایک سپر پاور کو مسلسل دباؤ میں رکھ سکتا ہے؟

سی این این کے مطابق یہی صورت حال صدر ٹرمپ کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے، کیونکہ جنگ شروع کرنے کے بعد اب اسے ختم کرنے کا راستہ تلاش کرنا پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز فاکس نیوز سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ ایران پر کسی معاہدے کی پاسداری کے لیے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد میمورنڈم) پر اتفاق ہو چکا تھا، لیکن ایران نے خلاف ورزی کی اور معاہدہ توڑ دیا۔

ٹرمپ کا یہ مؤقف خاصا دلچسپ تھا، کیوں کہ ان کے ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ ٹرمپ خود کئی بین الاقوامی معاہدوں سے دستبردار ہو چکے ہیں، جن میں پیرس ماحولیاتی معاہدہ بھی شامل ہے۔ ان کے پہلے دورِ صدارت میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اوباما دور کے معاہدے سے علیحدگی کو بھی موجودہ بحران کی اہم وجہ شمار کیا جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے پیر کے روز ہی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی دھمکی دی۔ تاہم ایران نے امریکی صدر کے اس بیان کو بھی نہایت دلچسپ انداز میں اپنے حق میں اور ان کے خلاف استعمال کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے طنزیہ انداز میں اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی صدر اس اصول کو درست سمجھتے ہیں تو ایران بھی یہی مؤقف رکھتا ہے، تاہم 20 فیصد فیس بہت زیادہ ہے، البتہ ہم اس معاملے میں کچھ لحاظ ضرور کریں گے۔‘

ایران کی جانب سے بیان دراصل ایک سفارتی وار تھا۔ ایران نے ٹرمپ کی اپنی ہی منطق کو استعمال کرتے ہوئے انہیں یہ پیغام دیا کہ اگر واشنگٹن دباؤ اور سودے بازی کی زبان میں بات کرے گا تو تہران بھی اسی انداز میں جواب دے سکتا ہے۔

‘ایران اب بھی کھیل کے اصول طے کر رہا ہے‘

سی این این کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران فریقین کے درمیان طے پانے والے ’امن معاہدے‘ کی اپنی تشریح پیش کر رہا ہے جب کہ ٹرمپ انتظامیہ کو اب تک یہ واضح کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے کہ اس نے اس جنگ کو دوبارہ کیوں شروع کیا کیوں کہ صدر ٹرمپ نے چند ہفتے قبل ہی مفاہمتی معاہدے کو ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔

تاہم اب صدر ٹرمپ اپنے اس بیان سے یہ کہہ کر پیچھے ہٹ گئے ہیں کہ یہ معاہدہ صرف ایک ’امتحان‘ تھا جس میں ایران ناکام رہا اور اس معاہدے کی زیادہ اہمیت نہیں تھی۔

سی این این کے مطابق طے شدہ مفاہمتی یادداشت اس وقت غیر مؤثر ثابت ہوئی جب ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات شروع کیے۔ اس صورت حال سے یوں ظاہر ہونے لگا تھا کہ امریکی فوجی طاقت اور سخت بیانات کے باوجود ایران اب بھی اس کھیل کے اصول اور مذاکرات کی سمت پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق معاہدے میں استعمال ہونے والی بعض مبہم شقوں نے بھی دونوں ممالک کو اپنے اپنے مفادات کے مطابق مختلف تشریح کا موقع دیا۔

معاہدے کے مطابق ایران کو 60 روز تک آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ اور آزادانہ آمدورفت کے لیے انتظامات کرنا تھے اور عمان کے ساتھ مل کر مستقبل کے انتظامی ڈھانچے پر کام کرنا تھا۔

امریکی نقطۂ نظر سے یہ شق بظاہر واشنگٹن کے مقاصد کو پورا کرتی تھی۔ امریکا نے اس شق کو معمول کے مطابق بحری آمدورفت کی بحالی سمجھا جب کہ ایران نے اسے مختلف انداز میں دیکھا۔ تہران کے نزدیک یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ مستقبل میں بھی آبنائے ہرمز کے انتظام میں اس کا مرکزی کردار برقرار رہے گا، یہی اختلاف اس نئی کشیدگی کی بنیاد بنا۔

ناقدین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے مذاکرات میں کاروباری انداز اختیار کیا لیکن وہ اس خطے کی تاریخ اور ایرانی حکمتِ عملی کو مکمل طور پر نہیں سمجھ پایا۔ نتیجتاً وہی ابہام پیدا ہوا جس نے کشیدگی کو جنم دیا۔

آرٹیکل کے مطابق امریکی انتظامیہ کے سامنے اب سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے، بحری ناکہ بندی اور دیگر اقدامات ایرانی قیادت کی حکمتِ عملی تبدیل کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے؟

یہ سوال اس لیے بھی مشکل ہے کیوں کہ ایران تمام تر حملوں اور دباؤ کے باوجود چند میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کی صلاحیت دکھا چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پیر کے روز تیل اور ڈیزل کے مستقبل کے سودوں (فیوچرز) میں اضافے نے اس خدشے کو بھی تقویت دی کہ اس جاری کشیدگی کے معاشی اثرات تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔

یوں توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے خدشات صدر ٹرمپ کو ایک بار پھر پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ کیوں کہ صدر ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایسی جنگ کی سیاسی اور معاشی قیمت ادا کرنے کے خواہاں نہیں جس میں امریکا طویل عرصے تک پھنسا رہے۔

کیا جنگ اب بھی روکی جا سکتی ہے؟

سی این این کے مطابق اس صورت حال کے باوجود باقاعدہ جنگ سے بچنے کا امکان اب بھی باقی ہے اور حالیہ جھڑپیں اس بات کی علامت بھی ہو سکتی ہیں کہ دونوں ملک مفاہمتی معاہدے کی اپنی اپنی تشریح کو درست قرار دینے کے لیے دوسرے پر دباؤ اور مستقبل کی سفارت کاری کے لیے اپنی پوزیشن مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے تاحال ایسے اقدامات کا اشارہ نہیں دیا جن سے جنگ مکمل طور پر پھیلنے کا خدشہ ہو جب کہ ایران نے بھی امریکی اتحادیوں یا خطے میں امریکی اڈوں کے خلاف اپنے جوابی اقدامات کو ایک حد تک محدود رکھا ہے۔

سی این این کے اس تفصیلی تجزیے میں کہا گیا ہے کہ سابقہ امریکی صدور لنڈن جانسن اور جارج بش نے امریکا کو غیر فیصلہ کُن جنگوں کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی تھی تاہم ٹرمپ نے اب تک اس راستے پر قدم نہیں رکھا ہے۔

اسی طرح صدر ٹرمپ نے اب تک جنگ کے ابتدائی ایام کی طرح بجلی گھروں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے کی سابقہ دھمکیوں جیسے بیانات سے بھی گریز کیا ہے۔

تجزیے کے مطابق ایران نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ روایتی فوجی طاقت میں امریکا کا مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن جغرافیہ، علاقائی اثر و رسوخ اور محدود مگر مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے ایک بڑی طاقت کے فیصلوں کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کا اس وقت سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ جس جنگ کو وہ پہلے اپنی کامیابی قرار دے رہے تھے، اب اس سے باہر نکلنے کا راستہ کیسے تلاش کیا جائے؟

Related posts