ایران کا ٹرمپ کے صدارت سے ہٹنے تک مذاکرات کے بائیکاٹ کا اعلان

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مستقبل میں کسی بھی قسم کے مذاکرات کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مدت ختم ہونے یعنی 20 جنوری 2029 تک واشنگٹن کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کریں گے۔ اس فیصلے کو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور بحیرہ عرب کو خلیج فارس سے ملانے والی اہم ترین بحری گزرگاہ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف کے مشیر ماجد شاکری نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر نہیں پہنچیں گے اور ایران ان کی مدتِ ملازمت کے خاتمے تک اپنی موجودہ حکمتِ عملی پر کاربند رہے گا۔

پارلیمانی مشیر ماجد شاکری نے ایرانی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ ہمارے ساتھ کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکتے، ہم ان کی صدارتی مدت ختم ہونے تک اسی روش کے ساتھ چلیں گے۔

انہوں نے واشنگٹن کے ساتھ نمٹنے کے ایرانی طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید لکھا کہ کامیابی کا راستہ نہ تو جنگ ہے اور نہ ہی کوئی ڈیل۔

ماجد شاکری نے خبردار کیا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کی عوامی سطح پر تصدیق کرنا سراسر حماقت ہوگی، لہذا ایران کے طریقہ کار میں انکار، ابہام اور اسٹریٹجک صبر شامل ہونا چاہیے۔

انہوں نے لکھا کہ ایران اپنے مطالبات پر قائم ہے جن میں 300 ارب ڈالر کا معاوضہ، منجمد اثاثوں کی بحالی اور خطے سے امریکی افواج کا انخلا شامل ہے، اور ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کو بھی انھی مطالبات کی منظوری سے مشروط کر رکھا ہے۔

اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی واضح کیا تھا کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کی طرف نہیں لوٹے گا جب تک کہ امریکا مفاہمت کی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزیوں کا ازالہ نہیں کرتا۔

عباس عراقچی نے اتوار کے روز اپنے بیان میں کہا کہ اس وقت ہمارے امریکا کے ساتھ کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، بلکہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے جو مذاکرات کی بحالی کے لیے حالات سازگار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت امریکا سے بات نہیں کر رہے، ثالث اب بھی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے طریقے تلاش کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، لیکن جب تک واشنگٹن خلاف ورزیاں بند نہیں کرتا اور معاوضہ نہیں دیتا، تب تک بات چیت شروع نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی پوزیشن کے مطابق اسے مذاکرات نہیں بلکہ محض پیغامات کا تبادلہ کہا جائے گا۔

دوسری جانب، آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے معاملے پر بھی ایران کا موقف انتہائی سخت دکھائی دیتا ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری موجودہ حکمتِ عملی اس وقت تک اس آبنائے کو بند رکھنے کی ہے جب تک کہ دشمن ہمارے تمام مطالبات اور شرائط کو تسلیم نہیں کر لیتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ آبنائے اب ہمارے لیے صرف ایک پانی کا راستہ نہیں بلکہ جنگ کا میدان ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بھی الگ سے یہ بیان جاری کیا ہے کہ یہ اہم بحری گزرگاہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکا اپنے رویے کی اصلاح نہیں کر لیتا۔

Related posts