ایران کے معاملے پر اسرائیلی، امریکی اور عرب ممالک کے آرمی چیفس کی خفیہ ملاقات: امریکی میڈیا کا دعویٰ

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور 8 عرب ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام نے گزشتہ ہفتے جرمنی میں خفیہ ملاقات کی، جس میں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور 8 عرب ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام نے گزشتہ ہفتے جرمنی میں خفیہ ملاقات کی، جس میں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق یہ غیر اعلانیہ اجلاس امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے منعقد کیا تھا۔ اجلاس میں امریکا، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، اردن اور مصر کے فوجی سربراہان شریک ہوئے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی جرمنی میں 8 ممالک کے اعلیٰ فوجی رہنماؤں کی ایک کانفرنس کی میزبانی کی تصدیق کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایڈمرل بریڈ کوپر نے اجلاس کے شرکا کو یقین دہانی کرائی کہ ایران کی جانب سے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے باوجود امریکا خطے سے اپنی فوج واپس نہیں بلائے گا۔

انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت بڑھانے سے متعلق امریکی منصوبے پر بھی فوجی سربراہان کو بریفنگ دی۔

اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے بھی اجلاس میں اسرائیلی فوج کی مختلف محاذوں پر کارروائیوں کے بارے میں دیگر ممالک کے فوجی حکام کو بریف کیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی میں شیڈول کانفرنس کے دوران 8 ممالک کے اعلیٰ فوجی رہنماؤں کی میزبانی کی گئی اور مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوئی۔ تاہم اجلاس کی تفصیلات یا ایران سے متعلق مخصوص فیصلوں کی مکمل تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان رابطے

رپورٹ کے مطابق خطے میں اسرائیل اور بعض عرب ممالک کے درمیان فوجی تعاون میں گزشتہ برسوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔

2020 میں اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے درمیان ابراہیم معاہدوں کے بعد اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کے نئے راستے کھلے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب، امریکی سینٹرل کمانڈ کی معاونت سے، حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائیوں میں اسرائیلی انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کی معاونت کے امکانات پر بھی بات کر رہے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے تیز کردیے ہیں اور بحیرۂ احمر میں باب المندب کے قریب بھی پیش قدمی کی ہے۔ حالیہ حملوں کے بعد سعودی عرب اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطحی فوجی رابطے بھی بڑھے ہیں۔

ایگزیوس کے مطابق جرمنی کا اجلاس خطے میں جاری وسیع تر کشیدگی کے دوران امریکا، اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان فوجی رابطوں کی ایک اہم مثال ہے، تاہم شرکا ممالک نے اس ملاقات کو پہلے سے عوامی سطح پر اعلان نہیں کیا تھا۔

Related posts