بھارت میں طلباء کا احتجاج، لوگ گھر بیٹھے کیسے مدد کر رہے ہیں؟عالمی خبریں 

بھارت میں طلباء کا احتجاج، لوگ گھر بیٹھے کیسے مدد کر رہے ہیں؟

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے دل جنتر منتر میں نوجوانوں کی قیادت میں جاری احتجاجی تحریک کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہو رہی ہے اور ملک کے مختلف حصوں اور بیرونِ ملک مقیم حامیوں کی جانب سے مسلسل امداد مل رہی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شہر کی سڑکوں پر فوڈ ڈیلیوری کرنے والے اور موٹر سائیکل سوار دن بھرمسلسل کھانا، بسکٹ، پھل، پینے کا پانی اور دیگر اشیائے خورد ونوش احتاجی مقام تک پہنچا رہے ہیں، جس کی وجہ سے دھرنا مسلسل جاری ہے۔

یہ آڈرز بھارت کی مختلف ریاستوں کے علاوہ بیرون ملک مقیم ان لوگوں کی طرف سے بھی بھیجا جا رہا ہے جو خود احتجاج میں شریک نہیں ہو سکتے لیکن اس کی حمایت کر رہے ہیں۔

بھارت میں طلباء کا احتجاج، لوگ گھر بیٹھے کیسے مدد کر رہے ہیں؟

25 سالہ فوڈ ڈیلیوری رائیڈر سورج کمار نے رائٹرز کو بتایا کہ انہیں کیرالہ سے لے کر امریکا تک مختلف مقامات سے آرڈرز موصول ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق رضاکار پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں کے پارجا کر کھانے کے پیکٹ وصول کرتے ہیں اور پھر انہیں ہاتھوں ہاتھ احتجاجی مقام کے اندر موجود مظاہرین تک پہنچایا جاتا ہے۔

یہ احتجاج ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) نامی ایک تحریک کی جانب سے کیا جا رہا ہے، جس کا آغاز مئی میں سوشل میڈیا پر طنزیہ مہم کے طور پر ہوا تھا۔ تحریک کے رہنما تعلیمی امتحانات کے سوالیہ پرچوں کے بار بار لیک ہونے پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ احتجاج گزشتہ ماہ سے جاری ہے، تاہم حالیہ دنوں میں ایک معروف سماجی کارکن کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کے بعد اس میں نمایاں تیزی آئی ہے۔

احتجاج پیر کے روز پولیس کی سخت کارروائی کے باوجود جاری ہے، اس روز ہزاروں نوجوان پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جس کے دوران پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ بھارت کی تقریباً 1.42 ارب آبادی میں 30 سال سے کم عمر افراد کی تعداد نصف سے زیادہ بتائی جاتی ہے، جبکہ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی کے باوجود روزگار کے مناسب مواقع پیدا نہیں ہو سکے۔

مظاہرے میں شامل نوجوانوں کا کہنا ہے کہ یہ تحریک صرف عوام کی ہمدردی اور باہمی اتحاد کی وجہ سے چل رہی ہے۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو روکنے اور لاٹھی چارج کے باوجود طلباء کے جذبے میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ کئی زخمی طلباء بھی علاج کے بعد دوبارہ مظاہرے میں شامل ہو رہے ہیں۔

دہلی یونیورسٹی کی 20 سالہ طالبہ رینا راوت نے کہا کہ یہ احتجاج عوام کی مہربانی اور مظاہرین کے اتحاد کی وجہ سے قائم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیر کو پولیس کی لاٹھی چارج کے دوران ان کی ٹانگ پر چوٹ لگی، لیکن وہ اگلے ہی روز دوبارہ احتجاج میں شامل ہو گئیں۔

25 سالہ رضاکار راج راٹھور کا کہنا ہے کہ پولیس کی کارروائی کے بعد عوام میں غصہ مزید بڑھا ہے۔ ان کے مطابق ہر شخص احتجاج میں شامل نہیں ہو سکتا، اسی لیے لوگ کھانا اور دیگر ضروری سامان بھیج کر تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی امداد اور رضاکاروں کا تعاون احتجاج کو دن رات جاری رکھنے میں مدد دے رہا ہے۔

دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ طلباء کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اور سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں اور تعلیمی نظام میں اصلاحات لائی جائیں گی۔ اس کے باوجود روزانہ ہزاروں کی تعداد میں طلباء اور عام شہری بارش اور حبس کے موسم میں بھی یہاں جمع ہو رہے ہیں۔

احتجاجی مقام پر نوجوان ڈاکٹروں اور میڈیکل طلبہ نے ایک طبی کیمپ بھی قائم کر رکھا ہے، جہاں چکر آنے، متلی اور لاٹھی چارج سے زخمی ہونے والے افراد کو ابتدائی طبی امداد دی جا رہی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ امتحانات کے پرچے افشا ہونے سے ان کا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے، اور اب وہ تمام تفرقات کو بھلا کر اپنے حقوق کے لیے سب ساتھ کھڑے ہیں۔

Related posts