‘بے اولادی کے طعنوں پر جعلی رپورٹس بنوائیں’: کراچی میں زچگی کیس کا ڈراپ سین

کراچی کے ایک نجی اسپتال میں زچگی کے مبینہ کیس کا حیران کن ڈراپ سین سامنے آگیا، جہاں خاتون کو حمل قرار دے کر جعلی الٹراساؤنڈ رپورٹس کی بنیاد پر مبینہ طور پر سی سیکشن کردیا گیا، تاہم بعد ازاں انکشاف ہوا کہ خاتون حاملہ ہی نہیں تھی۔

ذرائع کے مطابق خاتون گزشتہ سال حمل ضائع ہونے کے بعد دوبارہ حاملہ نہ ہوسکی تھی، جبکہ سسرالی رشتہ داروں اور معاشرے کی جانب سے بے اولادی کے طعنے ملنے کے خوف سے مبینہ طور پر جعلی الٹراساؤنڈ رپورٹس تیار کروائی گئیں۔

خاتون کو زچگی کے لیے کراچی کے ایک نجی اسپتال لایا گیا، جہاں وہ تقریباً 6 سے 7 گھنٹے موجود رہی۔ اسپتال میں موجود ڈاکٹرز اور انتظامیہ نے مبینہ طور پر الٹراساؤنڈ رپورٹس کی مناسب تصدیق کیے بغیر خاتون کو حاملہ تصور کیا اور جعلی رپورٹ کی بنیاد پر سی سیکشن کردیا۔

تاہم آپریشن کے دوران اور بعد میں معاملہ مشکوک ہونے پر حقیقت سامنے آئی کہ خاتون حاملہ نہیں تھی۔

واقعے نے اسپتال میں مریضوں کے طبی ریکارڈ، الٹراساؤنڈ رپورٹس کی تصدیق اور ڈاکٹرز کی جانب سے ضروری طبی معائنہ کیے جانے سے متعلق کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خاندان کی جانب سے تاحال باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان کی جانب سے تحریری درخواست موصول ہونے کے بعد واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی اور شواہد کی روشنی میں اسپتال انتظامیہ اور دیگر متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ جعلی الٹراساؤنڈ رپورٹس کیسے تیار ہوئیں، اسپتال میں ان کی تصدیق کیوں نہیں کی گئی اور خاتون کا سی سیکشن کس بنیاد پر کیا گیا۔

واقعے کی مکمل حقیقت سامنے آنے کے لیے اسپتال کے طبی ریکارڈ، الٹراساؤنڈ رپورٹس، ڈاکٹرز کے بیانات اور دیگر شواہد کا جائزہ اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل ایک شہری نے ناظم آباد کے ایک نجی اسپتال پر اہلیہ کی زچگی کے بعد نومولود بچہ غائب کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ شہری کا دعویٰ تھا کہ اس کے پاس اہلیہ کے تمام الٹرا ساؤنڈ اور 38 ہفتوں کا ریکارڈ موجود ہے جس کے مطابق اس کی اہلیہ حاملہ تھی تاہم آپریشن کے بعد ڈاکٹرز نے اہلیہ کے حاملہ ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

اس معاملے پر نجی اسپتال کے گائنی وارڈ کی سربراہ ڈاکٹر انجم آرا حسن کا کہنا تھا کہ خاتون مریضہ حاملہ نہیں تھی۔ ان کے مطابق خاتون پہلی بار فروری میں معائنے کے لیے آئی تھیں اور اُس وقت کے الٹرا ساؤنڈ میں حمل کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔

ڈاکٹر انجم آرا حسن نے دعویٰ کیا تھا کہ مریضہ کی فائل میں موجود بعض رپورٹس مشکوک ہیں جبکہ دوسرے اسپتال کی پیش کی گئی الٹرا ساؤنڈ رپورٹ بھی مبینہ طور پر جعلی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی میں آنے پر ڈیوٹی پر مامور ڈاکٹر نے اسی جعلی رپورٹ کی بنیاد پر خاتون کے ضروری ٹیسٹ کے بعد آپریشن کیا، جس میں معلوم ہوا کہ خاتون حاملہ نہیں تھی۔

Related posts